واشنگٹن: فلسطینیوں کو قتل عام اور بچوں کو یتیم کرنے کی دھمکیاں دینے والے امریکی میرین کور کے کمانڈر جنرل ایرک سمتھ کی زخمی ہونے کے بعد حالت تشویش ناک ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی میرین کور کے کمانڈر جنرل ایرک سمتھ اتوار کی شام زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد انہیں امریکا منتقل کردیا گیا۔ اس دوران واشنگٹن نے مسلسل یہ خبر چھپائے رکھی اور اب بتایا گیا ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے زخمی ہونے کے سبب زیر علاج ہیں، جہاں ان کی حالت تشویش ناک ہے۔
مغربی میڈیا میں صرف اتنی ہی بات رپورٹ کی گئی ہے کہ جنرل ایرک سمتھ کو دل کا دورہ پڑنے کے سبب زخمی ہونے کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جب کہ کچھ ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ حماس کی ایک مزاحمتی کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اگر یہ چوٹ واقعی دل کے دورے کی وجہ سے ہے تو اس کی ممکنہ طور پر وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل حماس لڑائی کی وجہ سے شدید تھکاوٹ کا شکار ہیں۔ جب کہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی جنرل حماس کی ایک کارروائی میں زخمی ہوئے۔
عرب میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حماس نے اسرائیل کے قریب واشنگٹن کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، جہاں سے اسرائیل کے دفاع میں حملے جاری تھے اور اسی حملے میں امریکی جنرل ایرک سمتھ زخمی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی میرین کور کے کمانڈر جنرل ایرک سمتھ نے چند روز قبل ہی دھمکی دی تھی کہ جو عناصر اسرائیل یا اس کے حامیوں پر حملہ کریں گے، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بچے یتیم ہو جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا مطلب موت کی دلدل میں جانا ہے








