حماس کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنائے جانے والے 60 قیدی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے لاپتا ہو گئے ہیں۔گذشتہ ماہ حماس نے بتایا تھا کہ سات اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے پچاس قیدی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو گئے تھے۔
حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر بتایا ’’کہ 60 لا پتا یرغمالیوں میں سے 23 کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا: ایسا لگتا ہے کہ قابض اسرائیل کی غزہ کے خلاف مسلسل جارحیت کی وجہ سے ہم ان تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ رائیٹرز اس بیان کی تصدیق نہ کر سکا؛ جبکہ اسرائیلی فوج نے اس پر تبصرہ سے گریز کیا ہے۔
جمعرات کے روز دو امریکی حکام نے بتایا کہ ان کا ملک حماس کی طرف یرغمال بنائے گئے افراد کی تلاش میں غزہ کی فضا میں مسلسل ڈرونز طیاروں کے ذریعے ان کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں حماس نے 239 یرغمالیوں میں سے اب تک صرف چار کو رہا کیا ہے۔
دوسری طرف پولیس نے سنیچر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تل ابیب میں سرکاری رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ یہ مظاہرہ گذشتہ ماہ حماس کے مزاحمت کاروں کے مسلح کارکنوں کے غزہ کی پٹی کے گرد ونواح بسنے والی یہودی کمیونٹیز پر حملہ روکنے میں ناکامی کے خلاف غم وغصے کا اظہار تھا۔
نیتن یاہو کی یروشلم میں اقامت گاہ کے باہر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے احتجاج کے لئے جمع ہونے والے سیکڑوں مظاہرین نے ہاتھوں میں اسرائیلی پرچم اٹھا رکھے تھے اور وہ نیتن یاہو کو گرفتار کرو کے نعرے لگا رہے تھے۔
احتجاج کا یہ سلسلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عوامی رائے عامہ کے ایک سروے میں تین چوتھائی اسرائیلیوں نے اسرائیلی وزیر اعظم سے استعفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ رائے عامہ کا یہ سروے اپنی سیاسی اور سکیورٹی قیادت کی پالیسیوں کے خلاف ان کے غم وغصے کا اظہار ہے۔
نیتن یاہو نے اب تک ان ناکامیوں کی ذاتی طور پر ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے جن کے باعث سات اکتوبر کو حماس کے حیران کن حملے کی راہ ہموار ہوئی اور وہ اسرائیل کے اندر تک گھس کر چودہ سو افراد کو قتل اور کم سے کم 240 کو ساتھ یرغمال بنا کر غزہ لے گئے تھے۔
اولین صدمہ کم ہونے کے بعد یرغمالیوں کے لواحقین کی صفوں میں حکومت کے خلاف غم وغصہ بڑھ رہا ہے کیونکہ وہ ان کی رہائی کے لئے خاطر خواہ انتظامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔








