تل ابیب:اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کی پیر کو رپورٹ کے مطابق اگرچہ لڑائی طویل عرصے تک جاری رہنے کی توقع ہے، اسرائیلی فوج نے موسم سرما کے دوران لڑائی کے لیے خصوصی تیاری کر لی ہے۔اسرائیلی فوج نے پہلے ہی تمام سرحدوں پر اپنے تمام اہلکاروں کو موسم سرما کے لیے مناسب سازوسامان فراہم کرنے کے لیےبھرپور اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
اردن کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر نے وضاحت کی کہ غزہ میں اسرائیل کے لیے کسی بھی کامیابی کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ اسرائیلی طیارے لڑائیوں کے آغاز کے 31 دن بعد بھی فضائی بمباری میں شدت پیدا کر رہے ہیں۔
سابق بریگیڈیئر جنرل عمر الرداد نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایک ماہ بعد بھی بمباری جاری رہنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر اسرائیلی فوج کو درپیش مسائل سنگین ہیں، انہوں نے کہا کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کی اسرائیل نے حماس کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے مگر کسی بڑی کامیابی کا امکان واضح نہیں۔
لیکن جنگ میں اسرائیل کے اعلان کردہ اہداف محض حماس کو گھیرنے سے کہیں آگے ہیں، کیونکہ اس نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا مقصد حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا اور 2007 سے غزہ میں اس کی مسلسل مسلح موجودگی کو ختم کرنا ہے۔الرداد نے وضاحت کی، "لڑائیاں ختم ہونے کے بعد چیزیں واضح ہو جائیں گی لیکن یہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، یہ بھی نہیں کہ اسے کس نے شروع کیا تھا۔
مصری عسکری ماہر میجر جنرل سمیر فرج کا خیال ہے کہ اسرائیل نے توپ خانے سے بمباری جاری رکھنے کے لیے شمالی غزہ کے علاقوں سے کچھ فاصلے تک پیش قدمی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل نے حملہ کرنے کے لیے وادی غزہ کے شمال میں بیت لاہیا، اور بیت حانون کے علاقے کا انتخاب کیا۔ اس نے دفاعی حصار میں گھسنے کی کوشش کی لیکن میدان میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی”۔
انہوں نے یہ کہہ کر صورت حال کا خلاصہ کیا کہ "جیت زمین پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے ہوتی ہے”۔
گم نام سرنگیں
اس کے علاوہ مصری فوج کے ایک اور سابق سینیر افسر نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل نہیں جانتا کہ غزہ میں اس کے زیر کنٹرول علاقوں کے نیچے کیا چیز اس کے انتظار ہے۔ مصر میں پوسٹ گریجویٹ اور اسٹریٹجک اسٹڈیز کے لیے ملٹری اکیڈمی کے مشیر میجر جنرل نصر سالیؤم نے کہا کہ "اسرائیل سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اب تک وہ ان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، جو کہ اس کے زمینی آپریشن کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک ہے‘‘۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی افواج "یہ نہیں جانتی ہیں کہ زیر زمین کیا ہے۔ اس لیے وہ دفاع کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہر حصے کو الگ الگ جانچنے کے لیے اور ہر علاقے کو الگ الگ نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ہوا کہ اسرائیلی فوج حماس سے ٹکرانے کے فوری بعد پسپا ہوگئیں۔ اسرائیلی فوج کی جنگ ہوائی جہازں سے بمباری اور توپ خانے کی شیلنگ تک محدود ہے۔
اصل جنگ
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "اصل جنگ اس وقت ہو گی جب اسرائیلی افواج شہروں اور سرنگوں پر حملہ کریں گی۔ اس صورت میں انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا جسے وہ برداشت نہیں کر سکیں گے”۔
فلسطینی صحافی جس نے غزہ کے گرم علاقوں کے اندر 26 دن کی جنگ کو دیکھا نے وضاحت کی کہ حماس اور دیگر مسلح فلسطینی دھڑوں کے ارکان اسرائیلی افواج کو اچانک سرنگوں سے نکل کر حملہ کرکے حیران کر دیتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ غزہ کی سرنگوں کے بارے میں کافی، حتمی یا درست معلومات دستیاب نہیں ہیں، جن کے بارے میں کچھ فلسطینی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی کی سڑکوں اور عمارتوں کے نیچے 500 کلومیٹر سے زیادہ علاقے میں یہ سرنگیں پھیلی ہوئی ہے۔








