غزہ میں ہسپتالوں کے باہر اسرائیلی ٹینکوں کی موجودگی اور گلیوں میں بھیانک لڑائی کی وجہ سے وہاں کی صورتحال بھیانک ہو گئی ہے۔
غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا کے اندر موجود عملے کے مطابق اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان ارد گرد کی گلیوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔
دونوں طرف سے ہونے والے حملوں کے درمیان مریض اور ہسپتال میں پناہ لینے والے لوگ پھنس گئے ہیں۔
الشفا میں موجود ایک سرجن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں پانی اور خوراک ختم ہو چکی ہے۔ بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی فورسز کی اس علاقے میں حماس کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے تاہم فوج نے اسپتال پر فائرنگ نہیں کی ہے۔اسپتال کے سرجن ڈاکٹر مروان ابو سعدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ الشفاء کے باہر سے ہر لمحہ گولیاں اور بم کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپتال کے میں لڑائی کی وجہ سے مرنے والے مریضوں کو دفن کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایندھن کی کمی کے باعث مردہ خانے میں فریج بھی کام نہیں کر رہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ لاشوں سے ہسپتال میں موجود لوگوں میں بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ہیومن رائٹس اسرائیل کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ دو قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے الشفاء اسپتال میں داخل مزید 37 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔








