نئی دہلی (آر کے بیورو)
غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف اقوام متحدہ کی لاچاری اور یورپ کے جانبدارانہ رویہ کے خلاف عالمی برادری سراپا احتجاج ہے وہیں بھارت میں بھی معصوم بچوں پر اسرائیل کے ظالمانہ کرتوتوں پر غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے -پریس کلب آف انڈیا میں بدھ کو ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے زیر اہتمام غزہ میں نسل کشی :ذم دار کون کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا جس میں سرکردہ سماجی شخصیات دانشوروں اور رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا-

معروف دانشور اور ڈی یو کے پروفیسر اپوروانند نے کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے نہ ہوں-انہوں نے کہا ہمارا فی الفور مطالبہ یہ ہے کہ بلا تاخیر جنگ بندی ہو،کیونکہ ہر انسانی جان قیمتی ہے-ان کاکہنا تھا کہ جنگ میں شہریوں کو یرغمال نہیں بنانا چاہئے خواہ اسرائیل ہو یا حماس یہ ضابطہ سب پر لاگو ہوتا ہے -اپوروانند نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کو ضروری بتایا
فعال متحرک نوجوان رہنما اور نائب امیر جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان نے کھچا کھچ بھرے ہال میں اپنی ہر مغز تقریر کے دوران اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں نسل کشی کے محرکات و اسباب اور مغرب کے دوغلے رویہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی-
انہوں نے کہا کہ اسرائیل و فلسطین کا تنازعہ 1948 سے جاری ہے ۔اس کی بنیاد یہ ہے کہ اسرائیل ظالم ، غاصب ، اور قابض قوت ہے اور فلسطینی مظلوم ہیں۔ عالمی برادری اور حکمرانوں کو ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ تاریخی اعتبار سے بھارت اور فلسطین میں ایک قدر مشترک ہےوہ یہ کہ ہم نے انگریزوں کے خلاف آزادی کی لڑائی لڑی وہیں فلسطین بھی اسرائیل سے آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے-بابائے قوم مہاتما گاندھی نے 1938میں تحریک آذادی فلسطین کی تائید کی تھی -ملک معتصم نے کہا کہ جنگی جرائم کا مرتکب اسرائیل کا ساتھ دینے والے بھی اس کے ظلم میں برابر کے شریک ہیں نائب امیر جماعت نے کہا کہ بھارت چاہے تو وہ جنگ بندی میں اہم او موثر کردار ادا کرسکتا ہے-انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطین میں آزاد، خودمختار مملکت فلسطین کا قیام ہی اس تنازعہ کا مستقل حل ہے۔فاضل مقرر نے اس بات پر شدید نکتہ چینی کی کہ دہلی میں فلسطین کے حق میں احتجاج منظم کرنے کو پولیس کی جانب سے مزاحمت اور ان کے حق میں دعاؤں کو روکنے کی کوشش آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہےاور یہ ناقابل قبول ہے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ فلسطینی عوام کی خون ریزی بند ہو-انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہمارے ملک بھارت کا جو رویہ فلسطین اور اسرائیل جنگ میں اب تک دیکھنے کو ملا ہے وہ اطمینان بخش نہیں
انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی امریکہ سے لوٹے ہیں انہوں نے دیکھا کہ امریکی سماج جس میں یہودی بھی ہیں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے خلاف سڑکوں پر ہے ساری دنیا میں بچوں کے قتل عام پر احتجاج ہورہا ہے -ڈاکٹر الیاس نے دعویٰ کیا کہ حماس نے لڑائی جیت لی ہے کیونکہ جو قوم مرنے پر آمادہ ہو اسے کوئی نہیں ہراسکتا –
معروف سماجی شخصیت جون دیال نے کہا آج اسرائیل فلسطین کے درمیان جاری جنگ کو 40 روز گزر چکے ہیں لیکن بھارت سرکار ابھی بھی خود کو نیوٹرل دکھانے کی کوشش کررہی ہے اس کے لیڈر اسرائیل کے حق میں بول رہے ہیں ہے جبکہ بھارت کی خارجہ پالیسی دو ریاستی فارمولہ کے حق میں رہی ہے بھارت کو ہمیشہ کی طرح کھل کر فلسطینی عوام کا ساتھ دینا چاہیے اس موقع پر فلسطینی سفیر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا .








