اسرائیلی افواج نے کہا ہے کہ انھوں نے غزہ میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر پر حملہ کیا ہے۔ایکس پر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ انھوں بدھ کی رات کو لڑاکا طیاروں سے حماس کے سربراہ کے گھر کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا گھر دہشتگردانہ کارروائیوں کے انفراسٹرکچر کے طور پر استعمال ہو رہا تھا اور یہاں حماس کے سینیئر رہنماؤں کے اجلاس بھی ہوتے تھے۔
بی بی سی آزادانہ طور پر اسرائیلی فوج کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
کون ہیں ہنیہ:اسماعیل ہنیہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کے تمام امور کے سربراہ ہیں۔ عام طور پر انھیں سیاسی سربراہ کہا جاتا ہے۔ انھیں سنہ 2017 میں حماس کے سیاسی شعبے کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔وہ گذشتہ کئی برسوں سے قطر میں ہی رہ رہے ہیں۔وہ 1980 کی دہائی میں حماس کے سرگرم رہنما تھے اور تین سال کے لیے اسرائیل نے انھیں قید بھی رکھا۔
غزہ واپس آنے سے قبل انھوں نے ایک برس باہر ہی گزارا۔ سنہ 1997 میں وہ حماس کے مذہبی شعبے کے سربراہ منتخب ہو گئے۔
اسماعیل ہنیہ سنہ 2006 میں فسلطین کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انھوں نے صدر محمود عباس کے ساتھ کام کیا۔ انھیں صرف ایک سال بعد اس عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ان کی برطرفی کی وجہ حماس کی طرف سے غزہ کی پٹی سے خونریز جھڑپوں کے بعد صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کو بے دخل کرنا بنی۔اسماعیل ہنیہ نے اپنی برطرفی کو غیرآئینی قرار دیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت فلسطین کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔ اپنی برطرفی کے باوجود حماس غزہ پر حکومت کر رہی ہے








