اردو
हिन्दी
اگست 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

“اسرائیل کی حمایت کے سبب نائبن الیون ہوا”اسامہ کا اکیس سال پرانا خط منظرعام پر ،امریکہ ناراض

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
118
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

برطانوی اخبار دی گارڈین نے اسامہ بن لادن کے 21 سالہ پرانے پیغام کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا لیکن اس سے قبل یہ سوشل میڈیا پر لاکھوں میں شیئر ہوچکا تھا۔ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا "امریکہ کے نام خط” منگل کے روز سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر شیئر ہونا شروع ہوا، جس کے بعد حماس کے خلاف اسرائیل کی موجودہ جنگ کی امریکی حمایت پر زور دار بحث چھڑ گئی۔
اسامہ بن لادن کو 22 سال قبل 11 ستمبر کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پنٹاگون کے دفتر پر ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اسامہ بن لادن کے مذکورہ خط میں لکھا تھا کہ نائن الیون کے حملے امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے کیے گئے تھے۔
وائٹ ہاوس نے اس خط کی اشاعت پر سخت نکتہ چینی کی جس کے بعد ٹک ٹاک نے بتایا ہے کہ وہ اس میں شامل پوسٹس کو ہٹانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
امریکہ کی ناراضگی کا سبب؟
گارڈین کی ویب سائٹ پر شائع اصل پوسٹ کے لنکس کو اب ایک بیان کے ساتھ بدل دیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسے "مکمل سیاق و سباق کے بغیر شیئر کیا گیا تھا۔
اس میں لکھا گیا ہے کہ "اس صفحہ پر پہلے ایک دستاویز شائع کی گئی تھی، جس میں اسامہ بن لادن کا ‘امریکی عوام کے نام خط’ کا وہ مکمل متن درج تھا جسے اتوار 24  نومبر کو آبزرور نے شائع کیا تھا۔”
اخبار نے مزید لکھا کہ "ہماری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے متن کو پورے سیاق و سباق کے بغیر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا ہے۔ اس لیے ہم نے اسے واپس لینے اور قارئین کو اس اصل مضمون کی طرف ڈائریکٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو سیاق و سباق کے مطابق ہے۔”
وائٹ ہاوس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا،” کسی کو بھی 2977 امریکی خاندانوں کی توہین نہیں کرنی چاہئے، اپنے عزیزوں کو اسامہ بن لادن کے الفاظ سے جوڑنے کی وجہ سے وہ اب بھی غمزدہ ہیں۔”
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ "بالخصوص اب ایسے وقت میں جب دنیا میں سامیت مخالف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہولوکاسٹ کے بعد حماس کے دہشت گردوں نے یہودیوں کا انہیں سازشی نظریات پر بدترین قتل عام کیا۔”
ٹک ٹاک کی وضاحت
ٹک ٹاک نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا، وہ "فعال اور جارحانہ مواد کو ہٹا رہا ہے اور اس بات کی تفتیش کر رہا ہے کہ یہ ہمارے پلیٹ فارم تک کیسے پہنچا۔ "
چینی ملکیت والے اس ایپ نے مزید کہا، "یہ ٹک ٹاک کے لیے کوئی منفرد نہیں ہے، یہ متعدد پلیٹ فارمز اور میڈیا میں شائع ہوا ہے۔’
اسامہ بن لادن نے نائن الیون کے بعد جاری کردہ اپنے پیغام میں مسلم ملکوں میں مغربی ملکوں کی سرگرمیوں پر اپنے اعتراضات کا ذکر کیا تھا اور امریکہ کی اسرائیل کی حمایت نیز فلسطینی علاقوں کے حوالے سے اس کے رویے کی مذمت کی تھی۔اسامہ نے مغرب کے رویے کو "جھوٹا، غیر اخلاقی اور بے حیائی” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور دلیل دی تھی کہ ان کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے شہریوں کے خلاف حملے درست تھے
امریکہ کے نام خط’
‘ امریکہ کے نام خط’ میں اسامہ بن لادن نے لکھا تھا، "اس (امریکہ) نے ہمارے خلاف لاکھوں فوجی اتارے اور ہم پر ظلم کرنے اور ہماری سرزمین پر قبضہ کرنے کے لیے اسرائیلیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا۔ گیارہ تاریخ کے ہمارے ردعمل کی یہی وجہ تھی۔”
اس خط کو ایک انفلوینسر نے اپنے ٹک ٹاک اکاونٹ پر شیئر کردیا اور لکھا کہ "…مجھے بتائیں کہ آپ کیا سوچتے ہیں… "جس کے بعد اسے 12 ملین سے زیادہ لوگوں نے لائک کیا۔
تاہم ٹک ٹاک کا کہنا تھا کہ اس میں شامل ویڈیوز کی تعداد کم تھی اور "ہمارے پلیٹ فارم پر اس کے ٹرینڈ ہونے کی رپورٹس غلط ہیں۔”
خیال رہے کہ دنیا کے مطلوب ترین شخص کے طور پر دس برس تک روپوش رہنے والے اسامہ بن لادن کو امریکی خصوصی فورسز نے سن 2011 میں پاکستان میں تلاش کرکے ہلاک کر دیا تھا۔۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN