ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو ہونی چاہیے اور یہ کہ اسرائیل کے قبضے کے باوجود یہ فلسطینی سرزمین رہے گی۔ انہوں نے غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے عرب اور اسلامی کوششوں کو یکجا کرنے پر زور دیا۔ ایردوآن نے مزید کہا کہ "مجھے امید ہے کہ موجودہ درد اس امن کی پیدائشی تکلیف ہے جس کی ہمارے خطے اور فلسطینی ریاست میں برسوں سے امید کی جا رہی ہے جو اسے حاصل کر لے گی۔” انہوں نے کہا کہ ریاض سربراہی اجلاس میں جس عزم کا اظہار کیا گیا تھا اس کو جاری رکھنے اور فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے عالم اسلام کو متحد اور یکجہتی کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ کا محاصرہ ختم کرنا ان اقدامات اور حکمت عملیوں سے ممکن ہو گا۔ اسلامی تعاون کی تنظیم اور عرب لیگ ایک یا دو ممالک کی طرف سے نہیں پورے عالم اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایردوآن نے کہا کہ غزہ کے سقوط کا مطلب یہ ہے کہ عالم اسلام کے اتحاد کو گہرا زخم لگا ہے۔ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے اور اس کے اقدامات کے لیے اسے جوابدہ ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ غزہ سے مریضوں کی ترکیہ منتقلی کے حوالے سے ایردوآن نے کہا کہ وہ غزہ کےمریضوں اور زخمیوں کا ہرممکن علاج کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی ان کے انخلاء کو تیز کرنے کے لیے مصر کا دورہ کر سکتے ہیں۔ بہت سے مریضوں کو غزہ سے مصر کے راستے ترکیہ منتقل کیا جا چکا ہے۔ اسرائیلی قابض فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلسل 48 ویں روز بھی تباہ کن جنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں 5 ہزار 840 سے زائد بچے اور 3 ہزار 920 خواتین سمیت 14 ہزار 128 فلسطینی شہید اور 33 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں








