فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کے انتہائی قریبی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حماس مزید چار دن کے لیے جنگ بندی کرنے پر راضی ہے۔ مزید چار دن کی جنگ بندی اگر ہونے کی صورت میں تو 24 نومبر سے شروع ہونے والی عارضی جنگ بندی میں یہ دوسری تو سیع ہو گی۔
غزہ میں جاری عارضی جنگ بندی سے پہلے اسرائیل کی بد ترین ناکہ بندی میں ڈیڑھ ماہ سے زائد تک کی جانے والی بمباری سے 16000 سے زائد فلسطینی شہید اور تیس ہزار سے زائد زخمی ہو گئے۔ جبکہ اس عرصے میں اسرائیل کا جانی نقصان 1270 کے قریب ہوا۔
بدھ کے روز ملنے والی اطلاعات کے مطابق حماس نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک کو بتا دیا ہے کہ اسے چار دنوں کی مزید جنگ بندی کرنے کو تیار ہے تاکہ غزہ میں اشیائے ضروریہ امدادی سامان کی صورت منتقل کرنے کا موقع فراہم رہے ۔
مزید چار دن کے لیے جنگ بندی ہونے کی صورت میں حماس بھی اسرائیلی یرغمالیوں کی ایک تعداد رہا کرے گی۔ ادھر امریکی و اسرائیلی حکام بھی دوحہ اسی مقصد کے لیے منگل کی شام پہنچ گئے تھے کہ جنگ بندی کو جاری رکھا جائے تاکہ مزید یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو اور امدادی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔








