امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی۔
سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کی قرار داد پیش کی گئی تھی۔
سلامتی کونسل کے 15 میں سے 13 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی، جبکہ برطانیہ غیر حاضر رہا۔
اقوام متحدہ میں امر یکی نمائندے نے کہا کہ قرارداد میں اب بھی غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ موجود ہے۔امریکا کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ حماس کو اس قابل بنا دے گا جو اس نے7 اکتوبر کو کیا تھا۔
یو اے ای نے قراردار ویٹو کیے جانے پر اظہار مایوسی کیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکا اور اسرائیل سمجھتےہیں کہ جنگ بندی سے صرف حماس کو فائدہ ہوگا، امریکا عارضی جنگ بندی کا ہامی ہے تاکہ وقفے کے دوران امداد پہنچائی جاسکے۔۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ سے عالمی سلامتی کو خطرہ ہے ، جنگ پہلے ہی مقبوضہ مغربی کنارے، لبنان، شام، عراق اور یمن تک پہنچ چکی ہے
تفصیلات کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ جنگ سے عالمی سلامتی کو شدید خطرہ ہے ،انہوں نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غزہ کے شہریوں کو اجتماعی سزا نہیں دی جاسکتی۔
اسرائیلی مندوب نے اقوام متحدہ پر دہرے معیار کا الزام عائد کردیا ہے، انہوں نے سیکرٹری جنرل کی جانب سے غزہ جنگ رکوانے کیلئے آرٹیکل 99 کے استعمال پر تنقید کی ہے۔
اقوام متحدہ میں قطری مندوب عالیہ احمد سیف الثانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کیخلاف جاری جارحیت پر قانونی مجرم ہے، انہوں نے عرب ممالک کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ پیش کیا۔
دوسری جانب غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری میں مزید 300 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، شہداء کی مجموعی تعداد 17500ہوگئی۔









