نئی دہلی (آرکے بیورو): میڈیا کا یہ تاثر تو صحیح ہے کہ پی ایم مودی اپنے فیصلوں سے چونکا تے ہیں ،لیکن سب کچھ طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق اورمیڈیا کی مدد سے ہوتا ہے ۔یہ کوئی ماسٹراسٹروک نہیں ہوتا بلکہ پارٹی ہائی کمان کی حکمت عملی کے عین مطابق ہوتا درباری میڈیا غبارے میں ہوا بھرتا ہے ۔
اس بار کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ جو وزرا ئے اعلی منتخب کئے گئے ہیں وہ یس میں ہیں ،غیر معروف ہیں مگر آرایس ایس کے تربیت یافتہ ہیں تینوں ریاستوں میں ایک ہی فارمولہ استعمال کیا گیا۔ اس کو یوں سمجھیں کہ تینوں وزرائے اعلیٰ کی عمر 60 سال سے کم ہے۔ تینوں سنگھی پس منظر سے ہیں۔ …اور پہلی بار تینوں ریاستوں میں دو نائب وزیر اعلیٰ، نیز اسمبلی کے اسپیکر کا فیصلہ بھی اسی دن کیا جائے گا۔ مدھیہ پردیش میں تومر اور راجستھان میں دیونانی کے بارے میں پہلے ہی بتادیا گیا ہے حالانکہ چھتیس گڑھ میں رمن سنگھ کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن ان کا نام لیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے خیال یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں تمام زاویوں کو مطمئن کر کے بعد میں ہونے والی تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا جائے۔ بی جے پی قیادت نے اپنی چونکا دینے والی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے کئی پلان تیار کیے ۔ سب سے پہلے مدھیہ پردیش میں پرہلاد پٹیل کے گھر پر سیکورٹی بڑھا دی گئی۔ ان کے گھر پر بھیڑ جمع ہونے لگی۔ پٹیل صاحب بھی اسمبلی کی سیڑھیوں پر گئے اور ماتھا ٹکایا ۔ میڈیا نے ان کے نام کوتصدیق کے طور پر قبول کرنا شروع کر دیا۔ لیکن وہی ہوا جو مودی چاہتے تھے۔ راجستھان میں بھی یہی بھول بھلیاں تیار کی گئیں۔مرکزی وزیر کیلاش چودھری کے گھر پر سیکورٹی بڑھا دی گئی۔ میڈیا اان کے پیچھے بھاگنے لگا۔ بات دہلی تک پہنچ گئی اور پھر کھیل کو آگے بڑھایاگیا۔ ہر کوئی دنگ رہ گیا ہے۔ وسندھرا راجے ہوں، شیوراج ہوں یا رمن سنگھ، سب کو بالآخر ماننا پڑا۔ان سب کو پچھلی بنچ پر بٹھا دیاگیا یہ آخری پارٹی کھیپ تھی جو واچہئی کے زمانے کی پیداوار تھی اب ہر طرح کے امرونہی چیلنج کاخاتمہ ہوگیا پارٹی میں مودییگ ہر سطح پر دکھائی دینے لگا ۔









