اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر بھاری اکثریت سے فوری جنگ بندی کی قرار داد منظور کرلی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت سمیت 153 ملکوں نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکا اور اسرائیل سمیت 10 ملکوں نے قرار داد کی مخالفت کی۔
193 رکنی جنرل اسمبلی میں سے 23 ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اقوام متحدہ میں فلسطین کے مندوب نے جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی قرار داد کی منظوری کو تاریخی دن قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قرار داد سے بھرپور پیغام گیا ہے، جارحیت کو روکنے تک ایسے اجتماعی فرض کو انجام دیتے رہنا ہوگا۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرار داد پر عمل درآمد لازمی نہیں ہے، یعنی عمل نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔اس سے قبل سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد امریکا نے ویٹو کردی تھی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے غزہ جنگ بندی کیلئے فوری عالمی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
اس حوالے سے ان تینوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے مشترکا بیان جاری کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق پریشان ہیں
کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم نے بیان میں مزید کہا کہ حماس کو شکست دینے کی قیمت تمام فلسطینیوں کی مسلسل تکالیف نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ جنگ بندی یک طرفہ نہیں ہوسکتی۔ حماس کو تمام یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔ تینوں وزرائے اعظم نے کہا کہ حماس کو فلسطینی شہریوں کو ہیومن شیلڈ بنانا بند کرنا ہوگا۔









