دہلی۔ دہلی پولیس نے ساگر شرما، منورنجن ڈی، امول شندے اور نیلم آزاد کو پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں خلاف ورزی کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ دہلی پولیس کی جانب سے چاروں ملزمان سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ جیسے جیسے دہلی پولیس کی تفتیش آگے بڑھ رہی ہے، نئے بڑے انکشافات ہو رہے ہیں۔ نوبھارت ٹائمس کے مطابق اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پارلیمنٹ میں توڑ پھوڑ کی سازش ڈیڑھ سال قبل بُنی جانے لگی تھی۔ذرائع کے مطابق اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمام ملزمان سوشل میڈیا پیج ‘بھگت سنگھ فین کلب’ کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ ان سب کی ملاقات تقریباً ڈیڑھ سال قبل میسور میں ہوئی تھی۔ جہاں سے اس سازش کا جال شروع ہوا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ 10 دسمبر کو سبھی ایک ایک کرکے دہلی پہنچ گئے تھے اور 10 دسمبر کی رات ہی تمام ملزمین گروگرام میں وکی کے گھر پہنچ گئے تھے۔ دیر رات للت جھا بھی وکی کے گھر پہنچ گئے۔ پارلیمنٹ کی ریکی جولائی میں ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق ملزمان نے سازش کرنے سے پہلے پارلیمنٹ کی ریکی بھی کی تھی۔ جولائی میں ساگر کو لکھنؤ سے دہلی بھیجا گیا تھا تاکہ پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کیا جا سکے۔ تاہم، جولائی میں ساگر پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا، جس کے بعد وہ گیٹ کو ریکی کرکے اور سیکیورٹی چیک کرنے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر چلا گیا۔ دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی کہ تمام ملزمان سوشل میڈیا جوائن کرنے کے بعد ایک ہی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔









