مرکزی وزیر اور بی جے پی کے متنازعہ لیڈر گری راج سنگھ نے گوشت کھانے والے ہندوؤں پر زور دیا کہ وہ صرف ‘جھٹکا’ یعنی بلیڈ کی ایک ضرب سے مارے جانے والے جانوروں کا گوشت کھائیں۔ سنگھ نے اپنے بیگوسرائے پارلیمانی حلقے میں اپنے حامیوں سے عہد کرایا کہ اب سے وہ حلال گوشت کھا کر اپنے ‘دھرم’ کوبھرشٹ نہیں کریں گے۔
اتوار کو بیگوسرائے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ان مسلمانوں کی تعریف کرتا ہوں جو صرف حلال گوشت کھاتے ہیں۔ اب ہندوؤں کو بھی اپنی مذہبی روایات کے تئیں اسی طرح کی وابستگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، "ہندوؤں میں جانور کو مارنے کا طریقہ جھٹکا ہے، ہندو جب بھی ‘بلی ‘ (جانوروں کی قربانی) کرتے ہیں تو وہ ایک ہی ضرب سے کرتے ہیں، اس لیے انہیں حلال گوشت کھا کر اپنے آپ کو بھرشٹ نہیں کرنا چاہیے۔ ۔”
انہوں نے ایک نئے کاروباری ماڈل کی ضرورت پر بھی زور دیا جس میں مذبح خانے اور جھٹکا فروخت کرنے والے ہوں۔ تاہم فی الحال ہر شہر میں میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی یا گرام پنچایت کے لائسنس کی بنیاد پر دکانیں چلتی ہیں۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بھی گوشت کی فروخت سے متعلق بہت سی پابندیاں نافذ ہیں۔ کئی بار بھینس کے گوشت کو گائے کا گوشت قرار دے کر دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ اس میں مبینہ گئو رکھشاکے گروپ پولیس کومعلومات دیتے ہیں۔
پچھلے مہینے، مرکزی دیہی ترقی کے وزیر نے اتر پردیش کے بعد بہار میں کھانے کی مصنوعات پر حلال سرٹیفیکیشن پر فوری پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھے گئے خط میں سنگھ نے حلال سرٹیفیکیشن کے درمیان مبینہ تعلق اور سماجی طور پر امتیازی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ممکنہ ملوث ہونے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔









