اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کو حماس کی جانب سے ملٹری کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کے ثبوت فراہم کیے جانے کے بعد ایک امریکی اخبار کی تیار کردہ رپورٹ نے ان شواہد کی صداقت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
’واشنگٹن پوسٹ‘ کی طرف سے تیار کی گئی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ یہ ثبوت اس درجے کے نہیں کہ انہیں ہسپتال کو حماس کا کنٹرول سینٹر کے طور پر استعمال کرنے پر یقین کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق اوپن سورس ڈیٹا، سیٹلائٹ امیجز اور مواد کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ ہسپتال میں حماسس کا کمانڈ سینٹر دکھائی نہیں دیتا۔
قانونی اور انسانی امور میں مہارت رکھنے والے ماہرین نے اخبارکو بتایا کہ الشفاء ہسپتال میں جو کچھ ہوا وہ اس بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے کہ کیا ہسپتال کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں عام شہریوں کو پہنچنے والا نقصان اسرائیلی فوج کی طرف سے لگائے گئے خطرے کے متناسب تھا؟
‘کوئی براہ راست ثبوت نہیں’
رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اس بات کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے کہ اسرائیلی فوج کی دریافت کردہ سرنگیں حماس کی جانب سے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا نہیں لگتا کہ فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگری کی طرف سے شناخت کی گئی پانچ عمارتوں میں سے کوئی بھی سرنگ نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ سرنگوں تک ہسپتال کے اندر سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔”
تحقیقات میں یہ بھی اشارہ کیا گیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیلی الزامات کی حمایت کرتے ہوئے انٹیلی جنس کے جائزوں کو مسترد کردیا تھا۔
رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ انٹیلی جنس کے ان جائزوں کے باوجود ان کے ساتھ کوئی ایسی معلومات یا شواہد نہیں تھے جن کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ حماس نے الشفاء ہسپتال کو کمانڈ سینٹر بنا رکھا تھا۔









