قوام متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق فولکر ترک کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا، ”اسرائیل کی طرف سے فوجی حربوں اور ہتھیاروں کا استعمال، غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کا استعمال، فلسطینیوں کو متاثر کرنے والی وسیع من مانیاں اور امتیازی سلوک پر مبنی نقل و حرکت انتہائی پریشان کن ہیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے مغربی کنارے میں 300 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں تقریباﹰ 80 بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، ”تشدد اور جبر کی شدت ایسی ہے، جیسی برسوں میں نہیں دیکھی گئی تھی۔‘‘
اس تازہ رپورٹ میں سات اکتوبر کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
غزہ کی اب تک کی سب سے خونریز جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی، جب عسکریت پسند تنظیم حماس نے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر دہشت گردانہ حملہ کرتے ہوئے تقریباً 1140 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔ اسرائیلی تاریخ کے اس بدترین حملے میں 250 افراد کو یرغمال بھی بنا لیا گیا تھا، جن میں سے 129 اب بھی غزہ میں حماس کے قبضے میں ہیں۔
اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کرتے ہوئے پہلے وسیع بمباری کی اور پھر زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔ غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری میں اب تک 21 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک جبکہ 23 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہزاروں فلسطینی ابھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔
غزہ کی 40 فیصد آبادی کو فاقوں کا خطرہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان دشمنی میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور غزہ پٹی کی 40 فیصد شہری آبادی کو فاقوں کا خطرہ ہے۔ غزہ میں ”فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘‘ کے ڈائریکٹر تھامس وائٹ کا کہنا ہے، ”ہر دن بقا، خوراک اور پانی کی تلاش کی جدوجہد ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ”غزہ تباہ کن بھوک سے نبرد آزما ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مزید امداد کی ضرورت ہے۔ واحد امید انسانی بنیادوں پر جنگ بندی ہے۔‘‘
فرانس کی جنگ بندی کی اپیل
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے ‘دیرپا جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ پیرس حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر ماکروں نے غزہ پٹی میں عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر ”سخت تشویش‘‘ کا اظہار کیا ہے۔ ماکروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے خاتمے پر بھی زور دیا۔ فرانس آنے والے دنوں کے دوران غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر آپریشن کرنے کے لیے اردن کے تعاون سے کام کرے گا۔









