نئی دہلی (آرکے بیورو)دہلی میں مغل دور کی ایک مسجد کو منہدم کرنے کی تجویز پر مخالفت بڑھ رہی ہے۔ نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے مسجد کو منہدم کرنے کی تجویز پر عوام سے رائے طلب کی ہے۔ صرف مسلم کمیونٹی کے لوگ ہی نہیں سرکردہ مورخین بھی اس قدم کے سخت خلاف ہیں۔ یہاں امروہہ سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ دانش علی نے اس تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کی تاریخی اور آثار قدیمہ کی اہمیت ہے، اسے منہدم نہیں کیا جانا چاہیے۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بھی سنہری باغ مسجد کو ہٹانے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے ایک خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی پرانی مسجد کو ہٹانا ہندوستان کے ورثے کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ مسجد وقف جائیداد ہے اس لیے اسے کسی کمیٹی کے فیصلے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ جیسے جیسے تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے، یہ سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ دہلی میں یہ مسجد کہاں ہے اور اس کی تاریخ کیا ہے۔ یہ بھی جان لیں کہ آج اسے ہٹانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے
٭سنہری باغ مسجد کہاں ہے ؟
یہ مسجد ادیوگ بھون کے ساتھ چوراہے کے بیچ میں واقع ہےسینٹرل سیکرٹریٹ میٹرو اسٹیشن سے نیچے اتر کر بھی یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ اویسی نے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سنہری باغ مسجد لٹینس دہلی میں اس وقت بنی تھی جب یہ علاقہ ایک گاؤں ہوا کرتا تھا۔ جب انگریزوں نے ہندوستان کا دارالحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل کیا تو اس علاقے کی آبادی کو دوسری جگہ پر آباد کر دیا گیا لیکن اس مسجد کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔ یہ علاقہ بذات خود لٹینس دہلی کہلاتا تھا۔ تاہم آج ٹریفک کو کم کرنے کے لیے اسے ہٹانے کی بات ہو رہی ہے۔ چوراہے پر مسجد ہونے کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک میں خلل پڑنے کا چرچا ہے۔
٭۰لٹین نے مسجد کو بچایا ۔
مسجد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کے معمار لٹینس نے مسجد کو بچانے کے لیے اس علاقے کو گول چکر کی شکل دی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مسجد نے نئی دہلی کو ہندوستان کا دارالحکومت بنتے ہوئے قریب سے دیکھا ہے۔
٭مورخین کیا کہتے ہیں۔ ۔
معروف مورخ اور مصنف سوپنا لڈل نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ نوآبادیاتی دور میں بھی، جب 1912 میں شہر کی تعمیر نو ہو رہی تھی، یہ مسجد محفوظ رہی، اب این ڈی ایم سی گرانے کی بات کر رہی ہے۔
انھوں نے ‘ٹائمز آف انڈیا’ کو 1912 اور 1942 کے دو نقشے دکھائے اور کہا کہ جب نئی دہلی کے قیام کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو قطب روڈ پر باغ میں واقع مسجد سمیت کچھ پرانی عمارتیں محفوظ رہ گئی تھیں۔ سنہری باغ مسجد ان میں سے ایک تھی۔ اس نقشے کے ذریعے منصوبہ سازوں نے فیصلہ کیا تھا کہ کون سی عمارتیں گرائی جائیں اور کون سی چھوڑ دی جائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے شہر کے لیے کئی مقبرے اور محلات گرائے گئے لیکن مغلیہ دور کی یہ مسجد محفوظ رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسے بچایا جانا چاہیے کیونکہ اس کی تعمیراتی اہمیت ہے اور کمیونٹی استعمال بھی کرتی ہے۔
ویسے بھی، گول چکر نئی دہلی کے اسٹریٹ پلان کی ایک اہم خصوصیت رہا ہے۔
رکن پارلیمنٹ دانش علی نے ہیریٹیج کنزرویشن کمیٹی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ مسجد کی تاریخی اور آثار قدیمہ کی اہمیت کے پیش نظر ایسا قدم نامناسب ہے۔ مسجد کو ہٹانے کی تجویز سے سوالات اٹھ سکتے ہیں اور عوام کا اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے چھٹی پر ہونے کے فوراً بعد نوٹس جاری کرنا اس عمل کے منصفانہ ہونے پر شکوک پیدا کرتا ہے۔ اب خبر یہ ہے کہ مسجد کو ہٹانے کے حوالے سے این ڈی ایم سی کو ای میل پر 2000 سے زیادہ تبصرے اور تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ یہ تجاویز مسلم تنظیموں اور اقلیتی بہبود کے اداروں کی طرف سے ملی ہیں جس میں مسجد کو گرانے کی سخت مخالفت کی ہے ۔ این ڈی ایم سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں علاقے میں ٹریفک جام کی شکایت پر دہلی ٹریفک پولیس سے درخواست موصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہ عمل شروع کیا گیا۔









