پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی لاہور کے بعد میانوالی سے بھی مسترد ہونے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور سابق ارکان پارلیمان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے کے حوالے سے پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال اس حوالے سے تفصیلی فہرست تو جاری نہیں کی گئی ہے لیکن انفرادی طور پر ریٹرننگ افسران کی جانب سے مختلف حلقوں میں امیدوار کو آگاہ کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کی جانب سے شائع کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں میں سے تقریباً 90 فیصد کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔ اس دعوے کی حوالے سے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا ہے تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
پاکستان تحریک انصاف نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے امیدواران کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کو انتخابی عمل میں بدترین دھاندلی قرار دیا ہے۔
تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ملک میں انتخابات کے انعقاد کے پہلے مرحلے میں ہی صاف شفاف انتخابات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ہراساں کرنے، ڈرانے، غیرقانونی طور پر اٹھا لیے جانے سمیت جبر کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کرکے تحریک انصاف کے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے سے روکنے کی ریاستی کوشش کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی کی پڑتال کے آخری روز آج ریٹرننگ افسران کے دفاتر پر خفیہ شرانگیزوں کا راج ہے۔
رؤف حسن نے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ دنیا میں پاکستان کی ساکھ، تشخص، دستور اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے صورتحال کا ہنگامی نوٹس لے۔‘
انتخابی امور کی ماہر مسرّت قدیم نے بی بی سی کو بتایا کہ جب کوئی اور طریقہ نہیں نکل سکا تو پھر تحریک انصاف کو انتخابی دوڑ سے باہر رکھنے کے لیے مائنس ون کا یہ فارمولا آزمایا جا رہا ہے۔
ان کی رائے میں جن امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں اب انھیں قانونی جنگ میں بھی زیادہ کامیابی حاصل ہونے کے بھی امکانات نہیں ہیں جب تک کہ وہ کچھ یقین دہانیاں نہ کروائیں۔
ان کے خیال میں پی ٹی آئی کو ریلیف ملنے کی صورت میں ایک طرح سے آئینی ادارے بھی آمنے سامنے ہو جائیں گے، جس سے ایک نئی بحرانی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اب الیکشن کمیشن بھی ایک آئینی ادارہ ہے اور عدالتیں بھی یہ بات مدنظر رکھیں گی کہ اداروں کا آپس میں کوئی تناؤ نہ پیدا ہو۔ان کی رائے میں اب یہ معاملات قانونی اور انتخابی سے زیادہ سیاسی رنگ اختیار کر چکے ہیں۔









