لوک سبھا انتخابات میں صرف چند ماہ رہ گئے ہیں اور تمام سیاسی پارٹیاں عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ادھر برطانیہ کے معروف اخبار گارڈین میں ایک مضمون لکھا گیا ہے جس سے اپوزیشن جماعتوں کو مایوسی ہو سکتی ہے۔ دراصل مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ‘یہ یقینی ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی حکومت بنائے گی اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔’
یہ مضمون ہننا ایلس پیٹرسن نے لکھا ہے پیٹرسن لکھتی ہیں کہ ‘تین ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں جیت سے حاصل ہونے والے اعتماد، پی ایم مودی کی مقبولیت اور رام مندر کے پران پرتیشٹھا پروگرام کی وجہ سے یہ یقینی ہے کہ بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار میں آئے گی اور یہ اسے روکنا تقریباً ناممکن ہے۔ تین ریاستوں میں جیت کے بعد خود پی ایم مودی بھی 2024 میں جیت کی پیش گوئی کرنے سے خود کو نہیں روک سکے۔ آرٹیکل کے مطابق ہندوستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے اور سیاسی تجزیہ کاروں میں ایک طرح کا اتفاق ہے کہ پی ایم مودی اور بی جے پی کی جیت یقینی ہے۔
*ووٹر بی جے پی کے ہندوتوا اور قوم پرستی کے ایجنڈے سے متاثر’
پیٹرسن لکھتی ہیں کہ ‘ہندو ووٹروں کی ایک بڑی تعداد وزیر اعظم کی مقبولیت اور ایک مضبوط رہنما کے طور پر ان کی شبیہ کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے ہندو قوم پرست ایجنڈے سے متاثر ہے، خاص طور پر شمالی ہندوستان کی ہندی پٹی میں۔ 2014 سے، قومی اور ریاستی سطح پر ملک کی رائے عامہ بڑی حد تک بی جے پی کی طرف جھک گئی ہے۔ مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ‘بھارت کے جنوب اور مشرق میں اپوزیشن جماعتیں بی جے پی سے زیادہ مضبوط ہیں لیکن قومی سطح پر اپوزیشن بکھری ہوئی اور کمزور نظر آتی ہے۔’
*’اپوزیشن اتحاد ابھی تک کئی اہم معاملات پر متحد نہیں ہوا’
,دی گارڈین, کے مضمون میں کانگریس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ‘انڈین نیشنل کانگریس نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں تلنگانہ میں کامیابی حاصل کی ہے _ وہ تین ریاستوں میں اب بھی اقتدار میں ہے لیکن پارٹی اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد بنا لیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں ابھی تک کئی اہم معاملات پر متفق نہیں ہو سکیں۔ تاہم یہ تمام پارٹیاں بی جے پی کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کی بات کر رہی ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ فی الحال بی جے پی کی جیت یقینی دکھائی دے رہی ہے۔









