امریکی صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ کے حکام مشرق وسطیٰ کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غزہ جنگ کی وجہ سے طول پکڑتےتنازع کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں کے باوجود جنگ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
کوئی خاص وقت نہیں
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سیموئل واربرگ نے کہا کہ ان کا ملک جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ثالث کے طور پر ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے آج جمعہ کے روز الحدث کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی خاص ڈیڈ لائن نہیں دے سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام حل طلب علاقائی مسائل کے حل کی تلاش میں امریکا اہم کردار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن تمام فعال فریقین کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہے۔ ان کے وژن کو شیئر کرتا ہے اور جنگ کے خاتمے کی خواہش رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اپنے اگلے دورے میں اسرائیلیوں کے ساتھ جنگ کے اگلے مرحلے پر بات کریں گے اور ان کا نقطہ نظر بھی سنیں گے۔
ہم نہیں جانتے کہ جنگ کب ختم ہوگی
غزہ میں جاری جنگ کی طوالت کے بارے میں حالیہ بیانات کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن فریقین کو سننا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد کا عرصہ ایک بہت اہم نکتہ ہے۔
جہاں تک قیدیوں کا تعلق ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن اب بھی حماس کے زیر حراست قیدیوں کی فائل کو اپنی ترجیحی فہرست میں رکھتا ہے۔ بلنکن کے دورے سے اس معاملے پر بات ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ نے جمعرات کو کہا کہ فوجی دستے شمالی غزہ کی پٹی میں جلد ہی فضائی حملے کرنے کے مقصد سے خود کو دوبارہ منظم کر رہے ہیں۔









