دوحہ؛حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے منگل کے روز مسلم ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو ہتھیار فراہم کریں جبکہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ساتھ گروپ کی جنگ جاری ہے۔
مزاحمت کار گروپ نے دوحہ میں کی گئی ہنیہ کی تقریر کی ایک نقل کا صحافیوں کے ساتھ اشتراک کیا جس کے مطابق انہوں کہا، "ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے ممالک قابض (اسرائیل) کو خوب ہتھیار فراہم کر رہے ہیں… تو وقت آ گیا ہے کہ (مسلم ریاستیں) ہتھیاروں کے ساتھ ہماری مزاحمت کی حمایت کریں کیونکہ یہ صرف فلسطینی عوام کی جنگ نہیں ہے۔”
اسماعیل ہنیہ نے زور دے کر کہا ہے کہ جب تک تمام فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا نہیں کیا جاتا اسرائیل کبھی بھی اپنے قیدیوں کو بازیاب نہیں کرسکے گا۔
انہوں نے منگل کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کی کانفرنس کے دوران خطاب میں مزید کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر جاری جنگ میں "قتل عام اور نسل کشی کے باوجود اپنے کسی بھی اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے‘انہوں نے غزہ میں جاری جنگ کو نسل کشی کی جنگ قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے اجتماعی قتل عام کا الزام عاید کیا۔حماس کے لیڈر نے کہا کہ اسرائیل نے تین اہداف طے کیے ہیں: "مزاحمت کا خاتمہ، قیدیوں کی بازیابی اور غزہ سے مصری سرزمین کی طرف نقل مکانی” اور یہ کہ وہ ان میں سے کسی کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔









