تحریر:عمیر سلیمی
انڈین وزیر سمرتی ایرانی کا سعودی عرب کا دو روزہ دورہ اس وقت سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس دورے پر انھوں نے اپنے بقول ’مدینہ کا تاریخی سفر کیا‘ اور وہ مسجدِ نبوی، جبلِ احد اور مسلمانوں کی پہلی عبادت گاہ سمجھی جانے والی مسجدِ قبا گئیں۔
انھوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس دورے پر سعودی حکام کا شکریہ ادا کیا اور اسے انڈیا اور سعودی عرب کے درمیان ثقافتی اور روحانی روابط کا عکاس بتایا۔
انڈین ذرائع ابلاغ میں یہ کہا گیا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مدینہ میں کسی غیر مسلم وفد کا استقبال کیا گیا ہو تاہم اس کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
سعودی سیاحتی اتھارٹی کی ویب سائٹ وزٹ سعودی کے مطابق غیر مسلم افراد مکہ اور مدینہ کی مقدس مساجد (مسجدِ نبوی اور مسجد الحرام) میں داخل نہیں ہوسکتے تاہم اس کے اطراف کے تاریخی اور ثقافتی مقامات سبھی کے لیے کھلے ہیں۔
انڈیا کی اقلیتی امور کی وزیر سمرتی ایرانی پیر سے سعودی عرب کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ سعودی عرب سے انڈیا کے تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے سفارتی مشن کا حصہ ہے۔
ان کے ساتھ انڈیا کے جونیئر وزیرِ خارجہ وی مرلی دھرن اور ایک وفد بھی اس دورے میں شامل ہے۔ انڈین وفد نے جدہ میں اترنے کے بعد مدینہ کا بھی دورہ کی۔
انڈین میڈیا کے مطابق اس موقع پر سمرتی ایرانی نے انڈیا اور سعودی عرب کے درمیان 2024 کے حج کے لیے ایک باہمی معاہدہ پر دستخط کیے۔ اس کے تحت 2024 کے حج کے لیے انڈین عازمین کی تعداد 175025 طے کی گئی ہے۔
انھوں نے انڈین عازمین کے کے لیے بہترین سہولیت فراہم کرنے کی غرض سے انڈین حج رضاکاروں، حکام اور عمرہ کے لیے آئے ہوئے انڈین شہریوں سے سے بات چیت کی۔انھوں نے سعودی عرب میں مقیم انڈین شہریوں اور وہاں کے بزنس وفد سے بھی بات چیت کی ہے۔دور درشن کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’یہ پہلا موقع ہے جب ایک غیر مسلم وفد کا استقبال مدینہ میں کیا گیا ہو۔ اس سے انڈیا اور سعودی عرب کے غیر معمولی رشتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔‘
سعودی عرب میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی ویب سائٹ ’وزٹ سعودی‘ نے ٹورسٹ ویزا ہولڈرز کے لیے یہ پیغام شائع کر رکھا ہے کہ ’مکہ اور مدینہ کے مقدس شہر صرف مسلمان سیاحوں کے لیے مختص ہیں‘ جہاں ہر سال لاکھوں مسلم زائرین آتے ہیں۔
سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے غیر مسلم افراد پر مرکزی مکہ شہر اور مدینہ کے مذہبی مقامات میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
تاہم ’وزٹ سعودی‘کے مطابق ’دو مقدس شہروں کے بیچ ایسے کئی مقامات ہیں جو ہماری مقامی تہذیب اور تاریخ بتاتے ہیں‘ اور یہ ’سب کے لیے کھلے ہیں۔‘
غیر مسلم افراد عام طور پر سعودی مذہبی مقامات، مثلاً مساجد، میں داخل نہیں ہوسکتے لیکن اس میں بعض معاملوں میں استثنیٰ حاصل ہوسکتی ہے۔ ’مثال کے طور پر غیر مسلموں کو مکہ کی مسجد الحرام کے باہری علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت ہے لیکن وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوسکتے۔۔۔ آپ اپنے پلان کے تحت ہر مذہبی مقام کے حوالے سے مخصوص قوائد و ضوابط چیک کر سکتے ہیں۔‘
صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے سربراہ عبد الرحمن السديس نے سعودی مقدس مقامات کے احترام پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، چاہے اس کا تعلق کسی بھی قومیت یا ان کے کام کی نوعیت سے کیوں نہ ہو۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے انڈین وفد کے سعوی عرب کے دورے پر تبصرے کیے ہیں
(بشکریہ بی بی سی ،یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)









