نئی دہلی:وقف بورڈ میں مبینہ بھرتی گھوٹالہ اور جائیدادوں کو لیز پر دینے کے معاملہ میں بے ضابطگیوں کی تفتیش کے ضمن میں ای ڈی نے منگل کو عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی ۔
ہندوستان ہندی کی رپورٹ کے مطابق استغاثہ کی چارج شیٹ میں کل پانچ لوگوں کا نام دیا گیا ہے جن میں ذیشان حیدر،داؤد ناصر.جاوید امام صدیقی،گوثرامام صدیقی اور ایک کمپنی کو ملزم بتایا گیا ہے۔ذیشان حیدر ،اور داؤد کو ای ڈی نے نومبر2023میں گرفتار کیا تھا- خاص بات یہ ہے کہ اس چارج شیٹ میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر ،اوکھلہ سے ممبر اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین امانت اللہ خان کا نام نہیں ہے ،ان کو ملزم نہیں بنایا گیا ہے۔یہ ان کے اور ان کے پرستاروں کے لئے بہت بڑی راحت کی خبر ہے-
واضح ہو ای ڈی نے گزشتہ سال اکتوبر میں امانت اللہ خان اور کچھ دیگر کے خلاف چھاپہ ماری کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ آپ کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان نے دہلی وقف بورڈ میں ملازمین کی ناجائز بھرتی سے نقدی کے طور پر دولت کمائی اور اسے انویسٹ کیا /منی لانڈرنگ کا معاملہ سی بی آئی کی ایف آئی آر اور دہلی پولیس کی تین شکایتوں کا نتیجہ ہے -اس میں کہا گیا تھا کہ چھاپوں کے دوران کئی دستاویز ضبط کئے گئے ۔معاملہ امانت اللہ کےُوقف بورڈ کے چیئرمین ہونے کے دوران ہوئی بھرتیوں سے جڑا ہوا ہے -اب عدالت 12جنوری کو چارج شیٹ پر کارروائی سے متعلق آگے کی سماعت کرے گی









