عالمی عدالت انصاف اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور اس کا مشن ملکوں کے درمیان تنازعات کا فیصلہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک خود بخود عالمی عدالت انصاف کے رکن ہیں۔
کوئی بھی ملک عالمی عدالت انصاف کے سامنے مقدمہ لے جا سکتا ہے جو کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے ذریعے نو سال کی مدت کے لیے منتخب کیے گئے 15 ججوں پر مشتمل ہے۔
عدالت کے دائرہ اختیار میں 1948 کے نسل کشی کنونشن سے متعلق تنازعات پر غور کرنا ہے۔
1939 اور 1945 کے درمیان دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ میں نازیوں کے ہاتھوں 60 لاکھ یہودیوں کے مارے جانے کے بعد، عالمی رہنماؤں نے اس معاہدے کو اپناتے ہوئے دوبارہ سے ایسے سانحے سے بچنے کی کوشش کی تھی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسرائیل، جنوبی افریقہ، میانمار، روس اور امریکہ ان 153 ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے اس کی توثیق کی ہے۔
چونکہ اسرائیل اور جنوبی افریقہ میں فی الحال عدالت میں کوئی جج نہیں ہے، اس لیے وہ اس مقدمے کے لیے خصوصی یا عارضی جج مقرر کر سکتے ہیں۔ اسرائیل نے اسرائیل میں سپریم کورٹ کے سابق صدر ہارون بارک کو مقرر کرنے کا انتخاب کیا اور جنوبی افریقہ نے ملک کی سپریم کورٹ کے سابق نائب صدر ڈک گانگ موسینیک کا انتخاب کیا۔
عالمی عدالت انصاف نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں واقع ہے اور اس کا قیام دوسری عالمی جنگ کے بعد ہوا۔ اس کا مقصد ریاستوں کے درمیان نتازعات کا حل نکالنا اور قانونی معاملات میں قانونی مشورہ دینا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے برعکس، آئی سی جے افراد کے خلاف انتہائی سنگین جرائم، جیسے کہ نسل کشی کے لیے مقدمہ نہیں چلا سکتا لیکن اس کی رائے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔









