نئی دہلی :مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ کائنات اور اس کے پیدا کرنے والے کے بارے میں اسلام کا تصور بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی خدا ہے، جس نے اس کائنات کو اور اس کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے، وہی روزی دیتا ہے، وہی علم عطا کرتا ہے، وہی انسان کو عزت سے نوازتا ہے اور وہی زندگی اور موت کے فیصلے کرتاہے۔
بیان میں آگےکہا گیا ہے کہ ایودھیا میں جو رام مندر کی تعمیر کا عمل ہونے جا رہا ہے، یہ سراسر ظلم پر مبنی ہے؛ کیوں کہ سپریم کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کے نیچے کوئی مندر نہیں تھا، جس کو منہدم کر کے مسجد بنائی گئی ہو اور اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے کہ خاص اسی جگہ شری رام چندر جی پیدا ہوئے ہوں؛ لیکن قانون سے ہٹ کر عدالت نے اکثریتی فرقہ کے ایک طبقہ کے ایسے آستھا کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا ہے، جس کا خود ہندو بھائیوں کی مقدس کتابوں میں ذکر نہیں ہے، یہ یقیناََ ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم پر بڑا حملہ ہے؛ اس لئے اگرچہ مسلمانوں نے سپریم کورٹ کا احترام کرتے ہوئے اس فیصلہ پر خاموشی اختیار کی ہے؛ مگر اس فیصلہ نے ان کے دلوں کو مجروح کیا ہے، اب اسی فیصلہ کو اساس بناتے ہوئے ایک ایسی مسجد– جس میں سینکڑوں سال نماز ادا کی گئی –کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر ، اس میں حکومت کی خصوصی دلچسپی اور وزیر اعظم کے ذریعہ اس کا افتتاح انصاف اور سیکولرزم کا قتل ہے اور سیاسی مقاصد کے لئے ملک بھر میں اس کی تشہیر اقلیتوں کے زخم پر نمک چھڑکنا ہے؛ اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حکومت کے اس غیر سیکولر اور غیر جمہوری رویہ کی سخت مذمت کرتا ہے،
یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ کیا ۲۲؍ جنوری کو دیپ جلانا چاہئے اور جے شری رام کا نعرہ لگانا چاہئے؟ تو مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ مشرکانہ عمل اور مشرکانہ نعرہ ہے، اگر ہندو بھائی مندر کی تعمیر کی خوشی میں دیپ جلائیں تو ہمیں اس پر اعتراض نہیں؛ لیکن مسلمانوں کے لئے ہر گز اس عمل میں شرکت جائز نہیں ہے، اسلام نے تمام مذہبی مقدس شخصیتوں کا احترام کرنے کو کہا ہے، ہم شری رام جی کے بشمول ہندو مقدس شخصیتوں کا بھی احترام کرتے ہیں؛









