اردو
हिन्दी
اگست 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ننھا سی مالدیپ ہے پھر بھی بھارت اس کے سخت رویے پر خاموش کیوں ہے؟ ایک تجزیہ

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
44
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مالدیپ ایک چھوٹا جزیرہ ملک ہے۔ رقبہ صرف 300 مربع کلومیٹر۔اگر ہم رقبے کے لحاظ سے موازنہ کریں تو دہلی مالدیپ سے تقریباً پانچ گنا بڑا ہے۔مالدیپ تقریباً 1200 چھوٹے جزائر کا ایک گروپ ہے۔ مالدیپ کی کل آبادی 5.21 لاکھ ہے۔کہا جاتا ہے کہ مالدیپ دنیا کا سب سے زیادہ جغرافیائی طور پر منتشر ملک ہے۔
مالدیپ کے اندر بھی پانی کے جہاز کے ذریعے کسی دوسرے جزیرے تک پہنچ سکتا ہے۔ بہت سے لوگ ان حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس کے باوجود مالدیپ ہندوستان کو ڈیڈ لائن دے رہا ہے۔
ہندوستان کے مشہور اسٹریٹجک امور کے ماہر برہما چیلانی نے ٹویٹر پر لکھا، "بحیرہ ہند کے ملک مالدیپ میں مشکل سے ساڑھے پانچ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ لیکن اسلامی جھکاؤ رکھنے والے اس کے نئے چین نواز صدر بیجنگ کے دورے سے اتنی ہمت جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ بھارت کو ڈیڈ لائن دے رہے ہیں اور بھارت کے حوالے سے جارحانہ بیانات دے رہے ہیں تاکہ مالدیپ کو تحفے میں دیئے گئے ہیلی کاپٹرروں کی دیکھ بھال کے لیے موجود درجنوں فوجیوں کو بھارت بھیجا جا سکے-
مالدیپ اتنا اہم کیوں ہے
گزشتہ ہفتے ہی مالدیپ کے نئے صدر محمد معیزو چین کے پانچ روزہ دورے سے واپس آئے ہیں۔
واپسی کے بعد محمد معیزو نے دارالحکومت مالے میں کہا کہ مالدیپ چھوٹا ہو سکتا ہے لیکن یہ کسی بھی ملک کو دھمکی دینے کا لائسنس نہیں دیتا۔
کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ معیزو نے ہندوستان کا نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ صرف ہندوستان کی طرف تھا۔مالدیپ کے جواب میں حکومت ہند کی طرف سے کوئی سخت عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن Muizzu حکومت اپنے رنگ میں ہے.مالدیپ نے بھارت کو 15 مارچ تک اپنی فوج واپس بلانے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان مالدیپ کے غصے کو اتنی خاموشی سے کیوں سن رہا ہے؟کیا مالدیپ ہندوستان کے لیے اتنا اہم ہے کہ اس کے جارحانہ بیانات کو بھی برداشت کرنا سمجھ میں آتا ہے؟
جہاں مالدیپ واقع ہے اسے خاص بناتا ہے۔ مالدیپ بحر ہند کے بڑے سمندری راستوں کے قریب واقع ہے۔
بین الاقوامی تجارت بحر ہند میں ان راستوں سے ہوتی ہے۔ اس راستے سے خلیجی ممالک سے ہندوستان کو توانائی فراہم کی جاتی ہے۔ ایسے میں مالدیپ کے ساتھ ہندوستان کے خراب تعلقات کو کسی بھی لحاظ سے درست نہیں سمجھا جاتا۔
کہا جا رہا ہے کہ اس وقت مالدیپ کی اپوزیشن بھارت کے ساتھ ہے لیکن اگر وہاں کے عوام بھارت کے جارحانہ بیان سے ناراض ہیں تو اپوزیشن کو بھی راضی کرنا آسان نہیں ہوگا۔ایسے میں چین کی موجودگی حکومت اور اپوزیشن دونوں میں بڑھے گی۔
مالدیپ ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ تنازعات کا اثر وہاں بھی محسوس ہوتا ہے۔ نوپو کیس میں مالدیپ سے بھی ردعمل سامنے آیاتھا۔
بحر ہند میں بڑھتا ہوا مقابلہ
حالیہ دہائیوں میں بحر ہند میں اقتصادی اور فوجی سرگرمیوں پر مسابقت بڑھی ہے۔
چین بحر ہند میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ ایسے میں اگر مالدیپ اس کے ساتھ آتا ہے تو اسے قدم جمانے میں مزید مدد ملے گی۔
کہا جا رہا ہے کہ مالدیپ کی موجودہ معیزو حکومت کھل کر چین کے ساتھ ہے۔ جب معیزو نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو سرخی یہ تھی کہ مالدیپ میں چین نواز امیدوار جیت گیا ہے۔
مالدیپ نے جولائی 2015 میں اپنے آئین میں ترمیم کی تھی۔ اس کے تحت غیر ملکی ملکیتی زمین حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہوگئیں کہ چین مالدیپ میں اسٹریٹجک اڈے تیار کرے گا۔
ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر گزشتہ ہفتے ہفتہ کو ناگپور کے منتھن ٹاؤن ہال میں خطاب کر رہے تھے۔اس دوران جب ان سے مالدیپ کے ساتھ بگڑتے تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ’’سیاست سیاست ہے۔ میں اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ ہر ملک، ہر روز، ہر شخص ہماری حمایت کرے گا یا ہم سے اتفاق کرے گا۔ ہم بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پچھلے 10 سالوں میں کامیاب رہے ہیں۔ ہم نے بہت سے معاملات میں مضبوط رابطے قائم کیے ہیں۔ سیاست میں ہلچل ہے لیکن وہاں کے عام لوگوں کی بھارت کے بارے میں اچھی رائے ہے اور وہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی اہمیت کو جانتے ہیں۔
ماہرین کیا کہہ رہے ہیں؟
ہندوستان کے سابق سفارت کار بھی معیزو حکومت کے غصے کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے دانشمندی سے کام لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔سابق سفارت کار راکیش سود نے انگریزی اخبار دی ہندو کو بتایا، ’’معیزو اپنی سیاست کر رہے ہیں اور اس سے فائدہ بھی اٹھانا چاہیں گے۔ وہ جان بوجھ کر اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں لیکن منہ توڑ جواب دینے کی صورتحال بھارت کے لیے اچھی نہیں ہے۔ ہندوستان کے لئے یہ صحیح ہوگا کہ وہ مالدیپ کو سماجی و اقتصادی نقطہ نظر سے ہندوستان کی اہمیت کا احساس دلائیں معیزو کا خیال ہے کہ ابراہیم صالح کی حکومت میں مالدیپ کی خودمختاری اور آزادی سے سمجھوتہ کیا گیا تھا۔

ابراہیم صالح کی حکومت کو بھارت نواز کہا جاتا تھا۔ جبکہ معیزومالدیپ میں ہندوستانی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف بولتے رہے ہیں اور اب صدر بننے کے بعد انہیں ہٹانے کی آخری تاریخ دے دی ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم میں انڈیا آؤٹ مہم بھی چلائی۔
پروگریسو الائنس، جس کے معیزو رہنما ہیں کا خیال ہے کہ ابراہیم صالح کی حکومت کے دوران ہندوستان کے ساتھ تین دفاعی معاہدے کیے گئے تھے، جو مالدیپ کی خودمختاری کے خلاف تھے۔Muizzu حکومت نے مالدیپ کو ان تین معاہدوں سے الگ کر دیا ہے۔ جب صالح حکومت نے 2021 میں بھارت کے ساتھ Uthuru Thila Falahu (UTF) معاہدے پر دستخط کیے تو اپوزیشن زیادہ جارحانہ ہو گئی۔ یہ ایک دفاعی معاہدہ تھا، جس کے تحت نیشنل ڈیفنس فورس کوسٹ گارڈ ہارپر کو مشترکہ طور پر بنایا جانا تھا۔
ان معاہدوں سے علیحدگی کو Muizzu کی چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ صالح حکومت کے دوران مالدیپ میں جو دفاعی برتری ہندوستان کے پاس تھی وہ اب پوری طرح سے چین کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔

(بشکریہ بی بی سی ہندی ،یہ اس کی نجی رائے ہے )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN