دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کے علاقے سیستان میں دہشت گرد گروہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کا نشانہ بنایا۔پاکستان کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران کی حدود میں علاحدگی پسند بلوچ شدت پسند گروپوں کے سات مختلف کیمپوں کو آپریشن ’’مرگ بر سرمچار‘‘ میں نشانہ بنایا ہے جن میں ان کے بھاری نقصان کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح ساڑھے چھ بجے کیے جانے والے ان حملوں میں علاحدگی پسند گروپوں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں ان کا بھاری نقصان ہوا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے صوبہ سیستان بلوچستان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ’سروان شہر کے آس پاس کے کئی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔‘واضح رہے کہ دو روز قبل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہو گئی تھیں۔
پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود میں حملے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ خودمختاری کی خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب بھی کیا تھا۔
بعدازاں گذشتہ روز پاکستان نے ایران سے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کردیا، ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ تمام اعلیٰ سطحی تبادلوں کو معطل کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ایران کے سفیر، جو اس وقت ایران میں ہی ہیں، ان کو بھی پاکستان واپس نہ آنے کا کہہ دیا گیا ہے۔









