اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اقوامِ متحدہ اور اس کی ایجنسیوں کے تمام امریکی اور برطانوی عملے کو ایک ماہ کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
20 جنوری کو لکھے گئے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک خط میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعا میں حکام نے اقوامِ متحدہ کے رہائشی رابطہ کار کو بتایا کہ برطانوی اور امریکی شہریت کے حامل ملازمین کے پاس "ملک چھوڑنے کی تیاری” کے لیے ایک ماہ کا وقت ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ "ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی انہیں چھوڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے،” اور مزید کہا کہ 24 گھنٹے کا نوٹس خط کے ذریعے دیا جائے گا۔
جبکہ حوثی یمن کے صرف ایک حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں، وہ ملک کی آبادی کے بیشتر مراکز پر قابض ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ انہیں میمو موصول ہوا تھا۔
"اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "اقوامِ متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے اس کا نوٹس لیا ہے اور وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اگلے اقدامات کیا ہیں؟
یمن میں اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار پیٹر ہاکنز خود برطانوی ہیں۔
یہ اخراج حوثیوں کے خلاف امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا جن کا مقصد بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں تجارتی جہاز رانی پر گروپ کے حملوں کو ختم کرنا ہے جس سے عالمی تجارت کو خطرہ لاحق ہے۔








