اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت غزہ پر حکومت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ہم جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ پر حکومت نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارا بنیادی ہدف غزہ اور غرب اردن میں حماس کے وجود کو ختم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم فلسطینیوں پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خود مختار ہوں، لیکن خود مختاری اسرائیل کو مٹانے کے اعلان پر نہیں بلکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط پر ہونی چاہیے۔
جب غزہ پراسرائیلی بمباری کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بارے میں پوچھے گئےسوال پر بینیٹ نے اسے حماس کو ختم کرنے کے لیے "کولیٹرل ڈیمیج” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعداد دوسری جنگ عظیم کے مقابلے میں کم ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل تمام فلسطینیوں کو حماس سمجھتا ہے اور انہیں اجتماعی سزا دینا چاہتا ہے۔ اس پر بینیٹ نے کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے میں بہت سے شہریوں نے حماس کی مدد کی تھی۔
اپنے استعفیٰ سے قبل بینیٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان ناکامیوں کے ذمہ دار ہیں جن کی وجہ سے اسرائیل پر حماس کا حملہ ہوا۔ تاہم اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو خاموش ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل اخبار کے مطابق انہوں نے ایک مکتوب میں اعتراف کیا کہ وہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے نے 12 ماہ تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔









