پٹنہ میں ای ڈی پیر کو لالو یادو سےگزشتہ کئی گھنٹوں سے زیادہ لگاتار پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ای ڈی زمین کے عوض ملازمت کے معاملے میں ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ستیہ ہندی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے ای ڈی نے اس معاملے میں لالو یادو سے پوچھ گچھ کے لیے تقریباً 50 سوالات تیار کیے ہیں۔ ادھر پٹنہ کے سیاسی حلقوں میں یہ چرچا ہے کہ ای ڈی اس معاملے میں لالو یادو کو کسی بھی وقت گرفتار کر سکتی ہے۔ آر جے ڈی کے کارکنان اور لیڈران دعویٰ کر رہے ہیں کہ بہار میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی لالو یادو کو اس عمر میں پریشان کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی، بی جے پی لیڈر اور کارکنان کہہ رہے ہیں کہ ای ڈی نوکریوں کے لیے زمین کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور وہ قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے۔
ستیہ کے مطابق اس پورے معاملے پر سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ای ڈی لالو یادو کو گرفتار کرتی ہے تو آر جے ڈی کو اس معاملے کو عوام کے درمیان بڑا مسئلہ بنانے کا موقع ملے گا۔ آر جے ڈی اس معاملے میں عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں لالو کی گرفتاری آر جے ڈی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
ئساتھ ہی کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ لالو کی گرفتاری سے آر جے ڈی کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ لالو اب بھی آر جے ڈی میں سب سے بڑے اسٹار پرچارک ہیں۔ لالو یادو آر جے ڈی کے سب سے بڑے حکمت عملی سازبھی ہیں۔
ابھی نتیش کے رخ بدلنے سے آر جے ڈی کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور اب اگر لالو کو گرفتار کیا جاتا ہے تو آر جے ڈی کارکنوں کے اعتماد میں بڑی کمی آئے گی۔
اب ای ڈی لالو یادو کو گرفتار کرتی ہے یا نہیں یہ بھی جلد ہی واضح ہو سکتا ہے۔ اگر لالو کو گرفتار کیا جاتا ہے تو یہ یقینی ہے کہ بہار کی سیاست تیزی سے ابل پڑے گی۔
لالو یادو سے پوچھ گچھ کے لیے ای ڈی کی ٹیم پیر کی صبح دہلی سے پٹنہ پہنچی تھی۔ ای ڈی کے سوالات کا جواب دینے کے لیے لالو یادو اپنی بیٹی اور راجیہ سبھا کی رکن میسا بھارتی کے ساتھ پٹنہ میں ای ڈی کے مقامی دفتر پہنچے تھے۔
جیسے ہی وہ ای ڈی آفس پہنچے، آر جے ڈی لیڈر اور کارکن بڑی تعداد میں ای ڈی آفس کے باہر جمع ہو گئے۔ آر جے ڈی کے کارکن دیر شام تک ای ڈی کے دفتر کے باہر جمع تھے۔ اس میں کئی ایم ایل اے، سابق ایم ایل اے، ایم پی اور سابق ایم پی بھی موجود تھے۔ اس دوران وہ دن بھر مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔دریں اثنامیسا بھارتی نے کہا ہے کہ میرے والد بیمار ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ تعاون کے لیے ٹھہرنا پڑا، لیکن مجھے گیٹ کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ حتیٰ کہ ان کے معاون کو بھی روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے ,گریٹنگ کارڈز, کی شکل میں سمن بھیجے جاتے ہیں۔









