اسکولوں میں حجاب کو لے کر جو تنازعہ کرناٹک میں ہوا تھا اب راجستھان میں ہونے کا امکان ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں، جے پور کے ہوامحل سے بی جے پی کے ایم ایل اے، بالمکند اچاریہ نے لڑکیوں کے حجاب پہننے پر اعتراض کیا تھا اور اب وزراء نے انتباہ دینا شروع کر دیا ہے کہ طالبات کو اسکول ڈریس کوڈ میں آنا پڑے گا۔
راجستھان کے اسکول ایجوکیشن منسٹر مدن دلاور نے خبردار کیا کہ جہاں بھی ڈریس کوڈ پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے وہاں سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ جواہر سنگھ بیدھم نے بھی کہا ہے کہ طلبہ کو ‘اشتعال انگیز لباس’ پہن کر اسکول نہیں آنا چاہیے۔ وزراء کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دو دن پہلے بی جے پی ایم ایل اے بالمکند اچاریہ نے ایک سرکاری اسکول میں لڑکیوں کے حجاب پہننے پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے بعد کابینہ کے وزیر کروڑی لال مینا نے کہا تھا کہ وہ ریاست کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں سر ڈھانپنے کے اس نظام پر پابندی لگانے کے لیے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما سے بات کریں گے۔
تاہم بی جے پی ایم ایل اے بالمکند اچاریہ کے اعتراض کے بعد ان کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ان کے اس بیان کے بعد مسلم طالبات جے پور کی مسلم اکثریتی ہوا محل اسمبلی کے ایم ایل اے آچاریہ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔ ایک سرکاری اسکول میں پڑھنے والی مسلم طالبات نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ سبھاش چوک پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ بھی کیا تھا۔ طالبات نے کہا کہ تعلیم کے مندر میں ہندو مسلم تفریق کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
احتجاج کرنے والے طلباء اور ان کے والدین نے ایم ایل اے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایم ایل اے آچاریہ نے کہا تھا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ مسلم طالبات اپنے مذہب کے مطابق کپڑے پہن کر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے میں نے کہا تھا کہ ہندو بچے بھی مختلف روپ میں آئیں تو کیسا لگے گا؟ اسکول میں ہی نظم و ضبط نہ ہو تو کیا فائدہ؟ آچاریہ نے کہا تھا لیکن اب کچھ لوگوں نے میری تقریر کو لے کر سیاست کرنا شروع کر دی ہے۔وزیر دلاور نے منگل کو کہا، ‘طلبہ کو اسکولوں اور دیگر سرکاری اداروں میں حکومتی احکامات اور ڈریس کوڈ پر عمل کرنا ہوگا۔’ انہوں نے کہا کہ ڈریس کوڈ کی پابندی کو یقینی بنانے کے احکامات پہلے سے موجود ہیں اور جہاں بھی بے ضابطگیاں پائی جائیں گی کارروائی کی جائے گی۔
دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق اسکولوں میں مبینہ طور پر نماز پڑھنے والے طلبا پر دلاور نے کہا کہ وہ ‘اسکولوں میں تبدیلی کی اجازت نہیں دیں گے اور تبدیلی کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔’
وزیر جواہر سنگھ بیدھم نے کہا، ‘ڈریس کوڈ کے بارے میں وقتاً فوقتاً حکومتی احکامات آتے رہتے ہیں، جسے محکمہ تعلیم نے مقرر کیا ہے۔ جب ہم بھی پڑھتے تھے تو یونیفارم میں ہی اسکول جاتے تھے۔ اور طلباء کو صرف اسی لباس میں اسکول آنے کی اجازت دی جائے کیونکہ حکومت کے ساتھ ساتھ این جی اوز بھی اسکول ڈریس فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو نازیبا لباس پہن کر سکولوں میں نہیں آنا چاہئے کیونکہ سکول تعلیم کا مندر ہیں اس سے طلباء میں انتشار پیدا ہو گا۔









