نئی دہلی (آر کے بیورو)
پریس کلب آف انڈیا کے صدر اور سینئیر جرنلسٹ گوتم لہری نے کہا کہ جمعیتہ علما ئے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے پریس کلب پر جو الزام لگایا ہے وہ بے بنیاد ہے –
واضح ہو مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام نئی دہلی میں دوفروری کو منعقد مسلم لیڈروں کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی تھی۔پریس کانفرنس میں مولانا مدنی نے میڈیا کی آزادی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کی کوشش کی تو وہاں سے جواب ملا کہ اس موضوع پر اجازت نہیں تو بتائیے کہ کس موضوع پر بات کریں اور کس پر نہ کریں”
ظاہر ہے یہ ملک میں جرنلسٹوں کے سب سے بڑے پلیٹ فارم کے تعلق سے جس کے دس ہزار ممبر ہیں سنگین بات ہے کہ آخر اس نے ایسا کیوں کیا-اورمسلم پرسنل لاء بورڈ کو پریس کانفرنس کے لیے جگہ دینے سے کیوں انکار کیا ،کیا اس کی کوئی خاص وجہ تھی ،یا اس کے پس پشت کوئی تعصب کام کررہا تھا؟
,روزنامہ خبریں, نے پریس کلب آف انڈیا کے صدرگوتم لہری سے اس بابت پوچھا توانہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ،انہوں نے بتایا کہ پریس کانفرنس سے صرف ایک دن پہلے شام میں اس بارے میں بات کی گئی کہ ہمیں جمعہ کو تین بجے پریس کانفرنس کرنی ہے ،یہاں یہ وقت پہلے سے ہی بک تھا ۔ان سے کہا گیا کہ وہ گیارہ بجے سے تین بجے کے درمیان کرلیں یہ وقت خالی ہے مگر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہی ٹائم درکار ہے ۔ظاہر ہے پہلے سے کی گئی بکنگ کو کیسے کینسل کرسکتے تھے اس لئے انتظامیہ نے معذرت کرلی۔لہری کا کہنا تھا اسے اجازت نہ دینا کیسے کہا جاسکتا ہے -کسی موضوع کے حوالہ سے منع کرنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا-
انہوں نے کہا کہ پریس کلب آف انڈیا ہی واحد پلیٹ فارم اور مقام ہے جہاں اختلاف رائے رکھنے والوں کو بھی جگہ دی جاتی ہے ۔قانون کے دائرہ میں کام کرنے والوں کے لئے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں ،پریس کلب کی تاریخ اس کی گواہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ مولانا مدنی کا بہت سمان کرتے ہیں ،مگر جو بات پریس کلب آف انڈیا کے حوالہ سے کہی گئی ہے اس کی تردید کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں









