نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کالی کٹ کی ایک پروفیسر کے خلاف ناتھورام گوڈسے کی تعریف کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پروفیسر نے مبینہ طور پر ایک فیس بک پوسٹ لکھی تھی جس میں اس نے مبینہ طور پر مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی تعریف کی تھی۔
ایک رپورٹ کے مطابق مہاتما گاندھی کی برسی پر پروفیسر ڈاکٹر اے شیزا نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھا تھا، ‘بھارت کو بچانے کے لیے گوڈسے پر فخر ہے۔’ انہوں نے ایک وکیل کی فیس بک پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وکیل نے پوسٹ لکھی تھی، ‘ہندو مہاسبھا کے کارکن ناتھورام گوڈسے، ہندوستان میں بہت سے لوگوں کا ہیرو۔’ بعد میں جب گوڈسے سے متعلق پروفیسر کے تبصرے پر تنازعہ شروع ہوا تو شیزا نے تبصرہ ہٹا دیا۔ لیکن ان کی پوسٹ کے اسکرین شاٹس بڑے پیمانے پر وائرل ہوئے۔
یہ واقعہ NIT-Calicut میں پیش آیا جہاں حال ہی میں ایک بڑے پیمانے پر تنازعہ ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک سائنس اور روحانیت کلب کے بینر تلے طلباء کے ایک گروپ نے رام مندر پران پرتیشٹھا کے دن انسٹی ٹیوٹ کے گیٹ پر ہندوستان کا بھگوا رنگ کا نقشہ کھینچا تھا۔ طلبہ کے ایک حصے نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ویشاکھ پریم کمار نامی دلت طالب علم نے بھی ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس میں لکھا تھا کہہندوستان میں رام راجیہ نہیں ہوگا، جس کی وجہ سے طلبہ میں تصادم ہوا۔
دو دن پہلے انسٹی ٹیوٹ نے پریم کمار کو معطل کر دیا تھا، لیکن بعد میں اسے اس وقت تک روک دیا گیا جب تک کہ اپیلٹ اتھارٹی ان کی اپیل پر فیصلہ نہیں کرتی۔ معطلی نے مزید بدامنی کو جنم دیا۔
اس دوران گوڈسے کے حوالے سے پروفیسر کی فیس بک پوسٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے یوتھ ونگ ڈی وائی ایف آئی نے ہفتہ کو شائزہ کی برخاستگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ‘معاشرے میں پریشانی پیدا کرنے کی کوشش کی’۔









