ممبئی: گجرات اے ٹی ایس، جو ہیٹ اسپیچ کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، نے اتوار کو اس سلسلے میں ممبئی سے اسلامی مبلغ مولانا مفتی سلمان ازہری کو حراست میں لے لیا۔ گجرات اے ٹی ایس مولانا مفتی سلمان ازہری کو رات دیر گئے جوناگڑھ لے گئی۔ گھاٹ کوپر پولیس اسٹیشن سے بھیڑ کو ہٹانے کے بعد، پولیس نے مولانا کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور انہیں دو دن کے ٹرانزٹ ریمانڈ پر اپنے ساتھ لے گئی۔
واضح ہو ان کی گرفتاری کے خلاف ہزاروں لوگ لوگ تھانے کے باہر جمع ہو گئے تھے ۔
گجرات اے ٹی ایس نے مولانا کو اتوار کی صبح اپنی تحویل میں لیا اور گھاٹ کوپر پولس اسٹیشن لے آئی۔ پھر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونے لگے۔ پولیس افسر کے مطابق، مفتی اشہری کے سینکڑوں حامی گھاٹ کوپر پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوئے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کیا۔ جس کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک جام ہوگیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق پولیس افسر نے بتایا کہ گجرات پولیس کی ٹیم مفتی ازہری کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئی ۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ جوناگڑھ، گجرات کی پولیس نے ہفتے کے روز اس سلسلے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا تھا جب مبینہ طور پر مبلغ کی طرف سے دی گئی اشتعال انگیز تقریر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تقریر 31 جنوری کی رات جوناگڑھ کے ‘بی’ ڈویژن پولیس اسٹیشن کے قریب ایک کھلے میدان میں منعقد ایک پروگرام میں دی گئی تھی۔
اشتعال انگیز تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مفتی ازہری اور مقامی منتظمین محمد یوسف ملک اور عظیم حبیب اوڈیدرا کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153B اور 505 (2) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔
یہ بات نوٹ کئے جانے کے قابل ہے کہ سوشل میڈیا پر ہیٹ اسپیچ کے ویڈیوز کی بھرمار ہے جن میں ایک خاص طبقہ کو کھلے عام گندی گالیاں دی جارہی ہیں اور موب لنچنگ کے قصور وار نظر آرہے ہیں









