اسرائیلی ساحلی شہر تل ابیب میں ہفتے کے روز ‘ایک سو بیس دن زیر زمین‘ کے نعرے کے ساتھ منعقدہ ایک مظاہرےمیں یرغمالیوں کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ اسرائیلی اخبار ہاریٹس نے اس احتجاج میں شامل ایک پندرہ سالہ مقرر کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس نوجوان نے اپنے یرغمالی کزن کی رہائی کے تناظر میں کہا، ”وزیر اعظم نیتن یاہو، ان لوگوں کو ہر قیمت پر واپس لائیں۔‘‘
تل ابیب ہی میں ایک اور احتجاج میں شامل افراد نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے فوری استعفے اور ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہرین کا الزام تھا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ نیتن یاہو کی مخلوط حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر بینجمن نیتن یاہو نے حماس کے ساتھ کسی قسم کی رعایت برتی، تو وہ حکومت سے نکل جائیں گی۔
یروشلم میں بھی قریب ایک ہزار افراد نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا۔ اسی انداز کے مظاہرے حیفہ اور بیرشیبا میں بھی دیکھے گئے جب کہ نین یاہو کے کائزاریا میں واقع مکان کے باہر بھی لوگوں نے مظاہرہ کیا۔
غزہ میں جاری جنگ کے پس منظر میں امریکہ، مصر اور قطر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل اور حماس کے درمیان کسی نئے معاہدے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس سلسلے میں ایک مجوزہ مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت حماس کے زیر قبضہ اسرائیلی یرغمالی شہریوں کو رفتہ رفتہ رہا کیا جانا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس معاہدے کو اسرائیلی مذاکرات کار قبول بھی کر چکے ہیں جب کہ ابھی حماس نے اس کی منظوری نہیں دی۔









