نئی دہلی:سینئر آر ایل ڈی لیڈر اور پارٹی کے قومی نائب صدر شاہد صدیقی نے 28 جنوری کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ کانگریس لیڈروں کے تکبرو گھمنڈ کو ہلکےمیں نہیں لیا جانا چاہئے۔ صدیقی لکھتے ہیں کہ کانگریس کا سب سے بڑا دشمن اس کی قیادت کا تکبر ہے۔ گاندھی پریوار کو بھول جائیں، اس کے دوسرے اور تیسرے درجے کے لیڈر اس قدر متکبرانہ برتاؤ کرتے ہیں کہ ان تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف، بی جے پی کے پاس کوئی انا نہیں ہے اور وہ انتخابی فائدے کے لیے اپنے سب سے بڑے دشمنوں سے سمجھوتہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی ہے۔
آج تک کا کہنا ہے کہ صدیقی کے اس ٹویٹ کو سیاسی حلقوں میں بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ کانگریس لیڈروں پر گھمنڈی ہونے کا الزام پہلے بھی لگا ہے۔ اس کی وجہ سے کانگریس کے کئی بڑے لیڈر این ڈی اے میں شامل ہو گئے۔ یہاں معاملہ دوسری جماعتوں کا ہے۔ کانگریس لیڈروں نے اکھلیش یادو کو بہت ہلکے میں لیا۔ شاہد صدیقی کے ٹوئٹ کا صاف مطلب ہے کہ پارٹی قائدین کانگریس کے ساتھ جانے میں اپنا فائدہ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ انڈیا الائنس کے حوالے سے پارٹی میں کچھ اچھا نہیں چل رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ شاہد صدیقی جیسے لیڈر نے اتنا سخت تبصرہ کیا ۔قابل ذکر ہے کہ شاہد صدیقی اس سے پہلے کانگریس اور سماجوادی پارٹی میں رہ چکے ہیں انہوں نے مظفرنگر سے کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن بھی لڑا تھا
ادھر امر اجالا نے اپنے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ آرایل ڈی کی بی جے پی سے اندرون خانہ بات چل رہی ہے جبکہ کانگریس مایا وتی سے گٹھ بندھن کی کوششوں میں لگی ہے ۔راہل کی یاترا کے یوپی میں داخل ہونے سے پہلے نتیش کی طرح کوئی دھماکہ ہوسکتا ہیے-









