بسفی/مدھوبنی/پریس ریلیز
مولانا مفتی امام الدین قاسمی سابق معاون قاضی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ جواں عمری میں ہی ایک فروری کو شام پارس ہوسپیٹل لے جاتے ہوئے دنیا کو خیر باد کہہ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے یہ اندوہناک خبر جس نے بھی سنا حیران وششدر رہ گیا
موصوف شریف الطبع منکسر المزاج باصلاحیت عالم دین تھے میں اس غم میں اہل خانہ کے ساتھ برابر کا شریک ہوں ان خیالات کا اظہار حافظ عبدالعلیم صاحب کٹھیلا نے تعزیتی کلمات میں کیا
حافظ محمد سالک کٹھیلا نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی امام الدین قاسمی کا انتقال اہل علاقہ کیلئے عظیم خسارہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ مفتی صاحب کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہوئی بتایا جارہا ہے آپ کی طبیعت اچانک خراب ہوئ تو فوراً آپ کو پارس ہوسپیٹل لے جایا گیا راستے میں ہی دم توڑ دیا
آپ حافظ ایوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ سابق استاذ مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ کے نواسے اور حافظ صاحب ہی کے پروردہ تھے
حفظ و دور از اعدادیہ تا عربی چہارم تک کی تعلیم اپنے نانا جان حافظ ایوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں رہ کر بہار کے مشہور ادارہ مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم زیر تعلیم رہے
آپ کی کی شادی مدھوبنی کی بستی بھیروا میں ہوئی تھی آپ لاولد تھے یہ بھی انکی زندگی کا خلا تھا
مولانا اسامہ سیفی قاسمی کٹھیلا نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ مفتی امام الدین قاسمی باصلاحیت عالم دین خوش مزاج نہایت ہی سادہ دل انسان تھے بہت ہی نرم گفتار تھے آپ کے اندر سمندر جیسی خاموشی تھی موصوف نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم مفتی محمد صغیر صاحب قاسمی کے ساتھ مہاراشٹر میں حاصل کی
حافظ عبد المتین نے کہا کہ مفتی صاحب کے انتقال کا بڑا قلق ہوا جس نے بھی یہ خبر سنی حیران و پریشاں ہو کر رہ گیا آہستہ آہستہ پورے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی امارت شرعیہ سے علیحدگی کے بعد الحمد ٹرسٹ کے ذریعے خدمت انجام دے رہے تھے
مولانا اعجاز مظاہری نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مفتی صاحب کے انتقال کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اول مرحلہ میں دل نے اس خبر کو قبول نہیں کیا اور یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ کیا یہ عمر بھی جانے کی ہے ؟ موصوف کا تعلق مدھوبنی ضلع کے گاؤں مومن پور پنڈول سے تھا آپ خاندانی عالم تھے









