عام انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کردی گئی ہے۔
ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ امن و امان قائم رکھنے، ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔کراچی، لاہور اور کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں موبائل سروس متاثر ہے۔
بلوچستان کے تقریباً تمام اضلاع میں موبائل فون سروس متاثر ہے، موبائل و انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پشاور میں بھی پولنگ شروع ہونے سے پہلے موبائل سروس متاثر ہے۔پشاور کے علاقے صدر، نوتھیہ اور گلبرگ سمیت مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس متاثر ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ جب محسوس ہوگا سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں تو انٹرنیٹ کھول دیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا اپنا نظام ہے، انٹرنیٹ سے الیکشن کمیشن کا کوئی تعلق نہیں، الیکشن کمیشن انٹرنیٹ بندش کا ذمہ دار نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا اپنا سسٹم کام کر رہا ہے، ہم حکومت سے رابطے میں ہیں، الیکشن کمیشن بہت مضبوط ہے، انٹرنیٹ کا معاملہ ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ کیا ووٹرز کو آج ہی 8300 پر ووٹ چیک کرنا تھا، الیکشن اسکیم جاری ہونے کے بعد ووٹرز کو اپنا ووٹ چیک کرنا چاہیے تھا۔
موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نتائج 8 بجے بھی آسکتے ہیں اور 9 بجے بھی، ای ایم ایس سسٹم میں صوبائی حلقوں کے لیے 3 اور قومی کے لیے 4 ورک اسٹیشن ہیں۔واضح رہے کہ صبح 8 بجے سے پہلے ملک بھر میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔









