غزہ:رمضان کا مہینہ قریب آتے ہی غزہ کی پٹی کے علاوہ القدس اور غرب اردن کے فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کی ڈیل میں اور جنگ بندی میں ناکامی نے غرب اردن اور القدس میں رمضان کے مہینے میں کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔ اسرائیل بھی اس وجہ سے تشویش میں ہے اور اسرائیلی حکومت پر شرائط کے ایک بڑے حصے کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ہفتے کی رات دیر گئے کہا کہ پولیس نے ایسے فلسطینیوں کی تعداد کو محدود کرنے کی سفارش کی ہے جو حرم قدسی تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔اس سے پولیس، اسرائیلی فوج اور شین بیت کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہو گیا تھا۔ انہوں نے بغیر پابندی کےعبادت گذاروں کو جانے کی اجازت دینے پر اتفاق کرنے کی سفارش کی تھی۔
بات چیت کے دوران سکیورٹی حکام نے اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر ایسے فیصلے کریں گے جس سے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھے گی۔
براڈکاسٹن کارپوریشن کے مطابق سکیورٹی سروسز کے لیے مخمصہ یہ ہے کہ آیا رمضان کے مہینے میں مغربی کنارے کے لوگوں کو یروشلم میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور اسرائیلیوں کے خلاف حملوں کا خطرہ پیدا کیا جائے یا ان کے داخلے کو روکا جائے۔ اس طرح مظاہروں اور بدامنی کی توقع کی جائے۔ اس فیصلے کی وجہ سے اسرائیل کا خیال ہے کہ حماس تحریک دونوں علاقوں میں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔
اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ "رمضان کا مہینہ قریب آنے کی وجہ سے حماس مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں تاخیر کر رہی ہے اور اپنا موقف سخت کررہا ہےتاکہ رمضان کا مہینہ قریب آئے۔ اس طرح اسرائیل کا محاصرہ کر کے کئی خطرناک منظرنامے پیدا کیے جائیں۔









