فرانسیسی وزیرِ داخلہ جیرالڈ درمانین نے اعلان کیا کہ حکام نے جمعرات کو تیونس کے ایک امام پر خواتین اور یہودیوں کے خلاف نفرت انگیزی کے الزام میں ملک بدر کر دیا۔
درمانین نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جنوبی فرانس کے چھوٹے قصبے بیگنولز سور سیز میں امام محجوب محجوبی کو "گرفتاری کے 12 گھنٹے سے بھی کم عرصے بعد” تیونس واپس بھیج دیا گیا
انہوں نے مزید کہا کہ یہ حال ہی میں لاگو ہونے والے تارکینِ وطن کے قانون کا مظہر ہے کہ "فرانس کو مضبوط بنایا ہے۔”
امیگریشن کی شرائط کو سخت کرنے والے قانون کو انتہائی دائیں بازو کی رائے پر حکومت کا ردِعمل قرار دیا گیا۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اس قانون کی شدید مخالفت کی ہے۔درمانین نے کہا، "سختی ہی اصول ہے۔” انہوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے "ناقابلِ قبول تبصرے کرنے والا ایک شدت پسند امام” بلایا۔
اے ایف پی کے ملاحظہ کردہ محجوبی کی بے دخلی کے سرکاری حکم نامے میں کہا گیا کہ فروری کے خطبات میں انہوں نے اسلام کی ایک "پسماندہ، عدم برداشت کی حامل اور پرتشدد” تصویر پیش کی تھی جو فرانسیسی اقدار کے خلاف رویئے، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک، "یہودی برادری کے ساتھ کشیدگی” اور "جہادی شدت پسندی” کی حوصلہ افزائی کرے گی۔حکم نامے کے مطابق امام نے "یہودی لوگوں کو دشمن” کے طور پر بھی بیان کیا۔ اس میں کہا گیا کہ محجوبی نے "مغربی معاشرے کی تباہی” کا مطالبہ کیا۔
امام کے وکیل سمیر حمرون نے کہا کہ وہ بے دخلی کے خلاف اپیل کریں گے۔









