کولکاتا:کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے اتوار کو کہا کہ وہ اب سیاست میں شامل ہوں گے۔ اس کے لیے وہ عدلیہ کو چھوڑ دیں گے۔ ایک نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ 5 مارچ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس پارٹی میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن یا سی بی آئی کو 2022 میں مغربی بنگال کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ان کے فیصلے پر ٹی ایم سی لیڈر سوال اٹھا رہے ہیں۔
بنگالی نیوز چینل اے بی پی آنند کو انٹرویو دیتے ہوئے جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیا نے کہا کہ وہ اپنا استعفی صدر دروپدی مرمو، کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کو بھیجیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے کئی بار حکمران جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے چیلنج کیا گیا ہے کہ وہ میدان میں آکر لڑوں، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ لڑوں؟’ جج نے کہا کہ اگر انہیں ٹکٹ دیا گیا تو وہ الیکشن لڑیں گے، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس پارٹی میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ انٹرویو میں جسٹس گنگوپادھیائے نے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں ان کا آخری دن پیر کو ہوگا اور وہ منگل کو اپنا استعفیٰ صدر کو بھیجیں گے۔
مغربی بنگال کی حکمراں ٹی ایم سی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کمرہ عدالت سے عام لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔انڈین ایکسپریس نے جج کے حوالے سے کہا، ‘بنگالی ہونے کے ناطے میں اسے قبول نہیں کر سکتا۔ جو لوگ حکمران بن کر ابھرے وہ ریاست کو فائدہ پہنچانے کے اہل نظر نہیں آئے۔ میں چیلنج قبول کروں گا اور منگل کو مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں پیر کو عدالت میں ہوں گا کیونکہ میرے پاس بہت سارے کیس ہیں۔
ٹی ایم سی کے ترجمان دیبانگشو بھٹاچاریہ نے اس پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا، ‘ہم کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک سیاسی پارٹی کے کارکن ہیں ۔ آج ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں درست ثابت کیا۔
ریاستی بی جے پی صدر سکانت مجمدار نے سیاست میں شامل ہونے کے گنگوپادھیائے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا، ‘ابھیجیت گنگوپادھیائے جیسے لوگوں کا سیاست میں آنا ملک کے حق میں ہے۔ میرے خیال میں بی جے پی ان کا فطری انتخاب ہوگا۔
کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ان کی پارٹی گنگوپادھیائے کا استقبال کرے گی۔ انہوں نے کہا، ‘وہ بدعنوانی کے خلاف جنگجو ہیں۔ اگر وہ کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہم ان کا پرتپاک استقبال کریں گے۔ وہ ایک لڑاکا ہیں۔اگر وہ بی جے پی میں شامل ہوتےییں تو نظریاتی طور پر ہم ان کی حمایت نہیں کر سکتے۔









