چین کے ساتھ طے پانے والے فوجی معاہدوں کے درمیان مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے ایک بار پھر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 10 مئی کے بعد کسی بھی ہندوستانی فوجی کو مالدیپ میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی، چاہے وہ سادہ لباس میں ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت مالدیپ سے ہندوستانی فوجیوں کو نکالنے میں کامیاب رہی ہے، وہ لوگ جو افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ہندوستانی فوج مالدیپ نہیں چھوڑ رہی ہے اور ہندوستانی فوجی سادہ لباس پہن کر واپس آرہے ہیں۔ ہمیں ایسی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے جو شک پیدا کریں۔
معیزو نے کہا کہ 10 مئی کے بعد کسی بھی ہندوستانی فوجی کو مالدیپ میں رہنے یا آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نہ فوجی وردی میں اور نہ ہی سادہ کپڑوں میں۔ ہندوستانی فوج مالدیپ میں نہیں رہے گی، چاہے وہ کوئی بھی وردی کیوں نہ پہنے۔ میں یہ بات اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔
مالدیپ اور چین کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دو فوجی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں کو ان ممالک کے باہمی تعلقات کا آخری باب قرار دیا جا رہا ہے۔
آج تک کی رپورٹ کے مطابق چین نے مالدیپ کو بغیر کسی شرط کے فوجی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم یہ فوجی مدد کس قسم کی ہوگی، اس بارے میں ابھی مزید معلومات سامنے نہیں آئیں۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ چین کے تحقیقی جہاز Xiang Yang Hong-3 کے حوالے سے بھی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ جہاز حال ہی میں مالدیپ پہنچا تھا۔ اسے چین کا جاسوسی جہاز بھی کہا جاتا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ بحر ہند کے علاقے میں سمندری تحقیق کو متاثر کر سکتا ہے۔
بھارت اور مالدیپ کے درمیان کشیدگی کیسے شروع ہوئی؟
حال ہی میں وزیر اعظم مودی کے لکشدیپ کے دورے کے بعد مالدیپ حکومت کے تین وزراء نے پی ایم مودی کے دورے کی کچھ تصویروں پر قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازع مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ اس معاملے پر تنازعہ بڑھنے کے بعد ان تینوں وزراء کو معطل کر دیا گیا۔








