اردو
हिन्दी
اگست 16, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مایاوتی کا بی جے پی والا   “کھیلا” شروع!!انڈیا الائنس کی کھودیں گی قبر

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
151
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

بی ایس پی جو 2007 میں 272 سیٹیں جیت کریوپی میں برسراقتدار آئی تھی، اس وقت اپنے سیاسی حاشیے پر ہے۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی صرف ایک سیٹ جیت سکی۔ ایک اور الیکشن قریب ہے اور بی ایس پی کی تیاریوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، پارٹی نے سات سیٹوں کے لیے امیدواروں کا اعلان کیا ہے جن میں پانچ مسلم چہرے ہیں۔ مرادآباد سے عمران سیفی، قنوج سے عقیل احمد پٹہ، سہارنپور سے مجید علی، امروہہ سے ڈاکٹر مجاہد حسین، بجنور سے چودھری وجیندر سنگھ اور مظفر نگر سے دارا سنگھ پرجاپتی کو اپنا امیدوار بنایا گیا ہے۔یہ چار ایسی سیٹیں ہیں جہاں مسلم اور دلت ووٹروں کے پاس گیم بنانے یا توڑنے کی طاقت ہے
مایاوتی نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں 99 مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر امیدوار 140 سے زیادہ مسلم اکثریتی اسمبلی سیٹوں پر کھڑے ہوئے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد 20 فیصد یا اس سے زیادہ تھی۔ ان 99 امیدواروں میں سے صرف 5 مسلم امیدوار ہی جیت سکے۔ پانچ سال بعد 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی نے ان سیٹوں پر 60 سے زیادہ مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے۔ اس الیکشن میں بی ایس پی کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی صرف ایک سیٹ جیت سکی۔ ایک طرف یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی میں پارٹی کی گرفت آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف انتخابی صف بندی میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو ملتا نظر آرہا
اگر ہم اسے مثال سے سمجھیں تو 2017 کے اسمبلی انتخابات میں، ایس پی اور بی ایس پی دونوں نے مغربی اتر پردیش کے کئی اضلاع جیسے میرٹھ، مظفر نگر، شاملی، سہارنپور اور مرادآباد میں مسلم اکثریتی اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی کے امیدواروں کے خلاف مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے۔
2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار اوتار سنگھ بھڈانہ نے مظفر نگر کی میراپور اسمبلی سیٹ صرف 193 ووٹوں سے جیتی تھی۔ جہاں اوتار سنگھ بھڈانہ کو 69,035 ووٹ ملے۔ سماج وادی پارٹی کے امیدوار لیاقت علی کو 68,842 ووٹ ملے تھے وہیں بی ایس پی کے نوازش عالم خان کو اس الیکشن میں 39,679 ووٹ ملے تھے۔
میراپور اسمبلی سیٹ کے علاوہ تھانہ بھون، میرٹھ ساؤتھ، سیوال خاص، دیوبند، بھوجی پورہ، نور پور اور کانٹھ جیسی تقریباً 14 ایسی اسمبلی سیٹیں تھیں جہاں مسلم امیدواروں کو ملنے والے کل ووٹ بی جے پی امیدواروں سے زیادہ تھے۔ بی ایس پی کے زیادہ تر امیدوار ان سیٹوں پر تیسرے یا چوتھے نمبرپر رہے۔
2022 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی صرف ایک سیٹ جیت سکی۔ ان انتخابات میں پارٹی نے 60 سے زیادہ مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے لیکن اس بار مسلم ووٹ بینک کا پولرائزیشن ایس پی اور آر ایل ڈی اتحاد کے حق میں دیکھا گیا۔ مسلم ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ایس پی کو مغربی یوپی کی مسلم سیٹوں جیسے تھانہ بھون، سیوال خاص، میرا پور، نور پور، بھوجی پورہ اور کانٹھ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن 2022 کے انتخابات کے نتائج نے ان سیٹوں پر الٹ پٹ کردیا/ان تمام سیٹوں پر ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
2017 کے اسمبلی انتخابات میں 19 سیٹیں جیت کر، بی ایس پی نے ریاست میں اپنا ووٹ شیئر 22.23% پر برقرار رکھا۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ شیئر گھٹ کر 12.88 فیصد رہ گیا۔ ماہرین کا خیال تھا کہ بی ایس پی کے ووٹ شیئر میں یہ بڑی کمی مسلم ووٹروں کی بی ایس پی سے دوری کی علامت ہے
یہ سمجھنے کے لیے کہ مایاوتی کے اکیلے الیکشن لڑنے سے بی جے پی کو کیا فائدہ ہوگا، ہمیں کچھ مسلم اکثریتی سیٹوں پر 2014 اور 2019 کے نتائج کا اندازہ لگانا ہوگا۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی)، بی ایس پی اور کانگریس نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات الگ الگ لڑے تھے۔ 2019 میں ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان اتحاد ہوا تھا۔ مسلم اکثریتی نشستوں پر ان دونوں مساواتوں میں کیا فرق آیا، یہ جاننے کے لیے کچھ نشستوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
2014 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی نے مراد آباد سیٹ سے کنور سرویش کمار کو میدان میں اتارا تھا۔ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس نے الگ الگ الیکشن لڑتے ہوئے اپنے مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے۔ کنور سرویش کمار نے یہ انتخاب 45,225 ووٹوں سے جیتا تھا۔ ان کا ووٹ شیئر 27.38 فیصد رہا۔ دوسرے امیدوار ایس ٹی حسن کا ووٹ شیئر 22.4 فیصد رہا۔ بی ایس پی امیدوار حاجی محمد یعقوب کا ووٹ شیئر 9.08 فیصد رہا۔
2019 میں تصویر بدل جاتی ہے۔ ایس پی اور بی ایس پی اتحاد میں لوک سبھا الیکشن لڑ رہے تھے۔ انتخابی نتائج میں ایس پی کے ڈاکٹر ایس ٹی حسن کو 6,49,416 ووٹ ملے اور ان کا ووٹ شیئر 50.65 فیصد رہا۔ کنور سرویش کمار، جنہوں نے 2014 میں الیکشن جیتا، 43.01 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ مغربی اتر پردیش کی دیگر مسلم اکثریتی نشستوں جیسے امروہہ، بجنور، سنبھل، سہارنپور اور رامپور میں بھی ایسی ہی صورت حال رہی

جہاں اتحاد نے مسلم ووٹوں کو متحرک کرکے بی جے پی کو شکست دی۔
2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مایاوتی کے اکیلے لڑنے سے ایک بار پھر 2014 کے انتخابات جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ایسے میں جہاں ہندو ووٹ پولرائز ہوں گے وہیں مسلم ووٹوں کا تقسیم ہونا یقینی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، نتائج ہی طے کریں گے کہ مایاوتی کی اس حکمت عملی سے ‘انڈیا’ اتحاد کو کتنا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN