نئی دہلی: اتراکھنڈ کے دھرچولا قصبے میں ایک تاجر تنظیم نے 91 دکانوں کارجسٹریشن منسوخ کر دیا، جن کو زیادہ تر مسلمان چلاتے ہیں، قصبے میں ایک حجام کی دکان پر کام کرنے والے ایک مسلم نوجوان کے مبینہ طور پر دو نابالغ ہندو لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے بعدیہ قدم اٹھایاگیا ہے
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ‘بیرونی لوگوں’ کو مکانات اور دکانیں کرائے پر نہ دیں، جس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق، دھرچولا ٹریڈ بورڈ کے جنرل سکریٹری مہیش گبریال نے کہا، ‘مقامی انتظامیہ سے گفتگو ومشورہ کے بعد 91 دکانوں کارجسٹریشن منسوخ کر دیا گیا ہے اور ان کے مالکان کو علاقہ چھوڑنے کو کہا گیا ہے۔ ان میں سے بہت سے ہماری بیٹیوں کو ورغلا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’بریلی کے ایک حجام نے گزشتہ ماہ دو نابالغ لڑکیوں کو ورغلایا۔ اس کے بعد ہم نے 91 دکانداروں کی نشاندہی کی جو یہاں غیر قانونی طور پر کاروبار کر رہے تھے۔ انہوں نے ٹریڈ بورڈ کے ساتھ رجسٹر نہیں کرایا، جو اتراکھنڈ میں لازمی ہے۔
دی ہندو کے مطابق، جن 91 دکانداروں کا رجسٹریشن منسوخ کیا گیاہے، ان میں سے تقریباً 85 مسلمان ہیں۔ تاہم دی ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ یہ تمام دکانیں مسلمانوں کی ملکیت ہیں۔
جبریال نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے ان تمام تاجروں کے رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جو 2000 سے پہلے دوسری ریاستوں سے یہاں آئے تھے۔ انہوں نے کہا، ‘اب تک شہر کے کل 175 تاجروں کی شناخت ہو چکی ہے۔ یہ سبھی مغربی اتر پردیش کے رہنے والے ہیں۔ اگر ہم یہاں سے باہر کے لوگوں کو نکال دیں تو مقامی نوجوان کاروبار شروع کر کے روزی کما سکیں گے۔
دریں اثنا ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کی کال دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور ہراساں کرنے کی شکایت کرنے والے دکانداروں کو سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔ دکن ہیرالڈ کے مطابق پتھورا گڑھ کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رینا جوشی نے کہا، ‘ہم نے ان عناصر کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے جنہوں نے دکان مالکان کو اپنی دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا۔ کسی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہر میں کاروبار کرنے والے بیرونی تاجروں کو مکمل سیکیورٹی دی جائے گی۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق، دھرچولا کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ منجیت سنگھ نے کہا، ‘ہم لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔ دکانداروں نے کچھ مسائل اٹھائے ہیں اور ہم جلد ہی ان کے یونین لیڈروں سے بات کریں گے۔








