نئی دہلی:دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ای ڈی کی جانب سے اپنی گرفتاری اور ریمانڈ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ایک دن پہلے، دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے کیجریوال کو راحت دینے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں 28 مارچ تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا تھا۔ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست میں ان کی جانب سے دلیل دی گئی ہے کہ ای ڈی کی گرفتاری اور ریمانڈ کا حکم دونوں غیر قانونی ہیں۔ ایسی صورت حال میں وہ ای ڈی کی حراست سے فوری رہائی کے مستحق ہیں۔ کیجریوال کی جانب سے ہائی کورٹ کے کارگذار چیف جسٹس سے اتوار 24 مارچ تک فوری سماعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم اب یہ معلومات سامنے آ رہی ہیں کہ عدالت ہولی کی چھٹیوں کے بعد ہی کیجریوال کی عرضی پر سماعت کرے گی۔ ای ڈی کے مطالبے پر عدالت میں سماعت 2-3 گھنٹے تک چلی۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیجریوال کو راحت دینے سے انکار کر دیا اور انہیں 28 مارچ تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا۔ عدالت میں سماعت کے دوران اروند کیجریوال کے وکلاء نے ای ڈی کی گرفتاری کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے جب کسی موجودہ وزیر اعلیٰ کو اس طرح سے گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، ای ڈی نے کیجریوال کو ایکسائز پالیسی کیس میں اہم سازشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے پوچھ گچھ ضروری ہے۔









