مختار انصاری کا جمعرات کو باندہ میڈیکل کالج میں ایک ایسے وقت میں انتقال ہوا جب یوپی سمیت پورے ملک میں عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ مختار نے گزشتہ ہفتے ان پر قتل کی سازش کا الزام لگایا تھا اور عدالت کو اس سے آگاہ کیا تھا۔ لیکن اب جس طرح سے یہ سارا معاملہ سامنے آیا ہے وہ متنازعہ ہو گیا ہے۔ مختار کا بیٹا عباس انصاری سبھاسپا (سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی) سے ایم ایل اے ہے۔ لیکن ای ڈی نے اسے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا ہے اور وہ جیل میں ہے۔ عباس کو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے پیرول سے انکار کر دیا گیا تھا۔ غازی پور، ماؤ، جونپور، بلیا کے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اس ملک میں رام رحیم جیسے مجرم کو پیرول مل سکتا ہے لیکن بیٹے کو باپ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پیرول نہیں مل سکتا۔
یوپی کے سابق ڈی جی پی سلکھان سنگھ نے مختار کی موت پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے جس میں انہوں مختار موت اور اس سے جڑے معاملوں انگلی ازٹھائی ہے لیکن ریاست کے اعلیٰ پولیس افسران اس پر خاموش ہیں۔مختار انصاری کی موت کو لے کر غازی پور، مؤ، باندہ ، وارانسی وغیرہ میں پرامن کشیدگی ہے۔ حکومت نے ان اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ درحقیقت جب مختار کو سپرد خاک کیا گیا تو غازی پور کے لوگوں میں ضلع انتظامیہ کے رویہ کو لے کر کافی ناراضگی ہے۔ ڈی ایم نے آخری وقت میں مذہبی رسومات کو ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ مختار کے بھائی افضال انصاری نے اعتراض کیا تو ڈی ایم نے قانونی کارروائی کی دھمکی دی۔ یہ سب کیمرے پر لائیو ریکارڈ کیا گیا۔ اس واقعہ نے لوگوں کے غصے میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔









