مرکزی وزیر اور مظفر نگر سے بی جے پی امیدوار سنجیو بالیان کے قافلے پر ہفتہ کو حملہ کیا گیا۔ لوک سبھا انتخابات 2024 کی مہم کے دوران کئی لوگوں نے مبینہ طور پر ان کے قافلے پر پتھراؤ کیا۔ تاہم حامیوں نے بی جے پی لیڈر کو بحفاظت بچا لیا۔ انہیں دوسری گاڑی میں ان کے گھر کو واپس بھیج دیا گیا۔ حملہ آور کھیتوں سے فرار ہو گئے۔ غازی آباد میں انتخابی مہم کے دوران کچھ لوگوں نے بی جے پی امیدوار اتل گرگ سے ہاتھا پائی کی۔ اس سے پہلے باغپت میں بی جے پی اور آر ایل ڈی کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے بی جے پی کے کئی لیڈروں کو مارا پیٹا۔ پولس حکام کو کھتولی تھانہ علاقہ کے تحت مدکرم پور گاؤں میں رات تقریباً 8.30 بجے پتھراؤ کی اطلاع ملی تھی۔ ایک پولس افسر نے بتایا کہ گاؤں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہفتہ کی شام کو گاؤں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار سنجیو بالیان کی طرف سے ایک جلسہ عام منعقد کیا جا رہا تھا۔ اس جلسہ عام کے دوران کچھ سماج دشمن عناصر نے پہلے نعرے لگائے اور پھر باہر کھڑی گاڑیوں کے قافلے پر پتھراؤ کیا۔
بی جے پی کے ضلع صدر سدھیر سینی نے اپوزیشن پر شدید حملہ کیا۔ سینی نے کہا کہ اپوزیشن سنجیو بالیان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ سینی نے کم از کم دو زخمیوں اور 6-7 گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کا ذکر کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات فراہم کیں۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ حملے کے بعد حملہ آور کھیتوں سے فرار ہو گئے۔ اس حوالے سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔ جس میں سنجیو بالیان کو بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ حملے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسی گروپ یا تنظیم پر الزام نہیں لگایا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس حملے کا مقصد کیا تھا۔ سنجیو بالیان کا شمار مظفر نگر کے متنازعہ لیڈروں میں ہوتا ہے۔ مظفر نگر فسادات کے دوران اپوزیشن پارٹیوں نے ان پر کئی الزامات لگائے ہیں۔ اپوزیشن نے انہیں فسادات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بالیان تیسری بار مظفر نگر سیٹ سے جیتنا چاہتے ہیں۔ 2019 میں بالیان نے 569,535 ووٹ حاصل کیے اور آر ایل ڈی کے رہنما اجیت سنگھ کو 3,782 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ 2014 میں بالیان نے بی ایس پی کے قادر رانا کو 398,410 ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر مظفر نگر سیٹ جیتی تھی۔ اس بار آر ایل ڈی اور بی جے پی کے درمیان سمجھوتہ ہے۔ اسی لیے بی جے پی خود بہت مضبوط ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ ایس پی نے یہاں سے ہریندر ملک کو میدان میں اتارا ہے۔ ہریندر اور سنجیو دونوں کا تعلق جاٹ برادری سے ہے۔ اس لیے مقابلہ قریب ترین سمجھا جاتا ہے۔ مظفر نگر میں پہلے مرحلے میں 19 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔









