جہاں یوپی کی یوگی حکومت مبینہ مافیا کے خاتمے اور ان پر شکنجہ کسنے کو اپنی کامیابی شمار کر رہی ہے اس کے نام پر ووٹوں کو ہولرائز کرنے کی کوشش کررہی ہے وہیں دوسری طرف حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے رہنما مختار انصاری کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کر رہے ہیں اور ان کی تعریف کر رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے سبقت لیتے دکھائی دے رہے ہیں -مختار انصاری کو لے کر کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کے بیان پر ہنگامہ ابھی تھم نہیں پایا تھا کہ اب ایک اور اتحادی پارٹی کے کابینہ وزیر نےمختار انصاری کے خاندان کے ساتھ کھل کر ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ یوگی حکومت کے کابینہ وزیر اور نشاد پارٹی کے صدر ڈاکٹر سنجے نشاد نے مختار انصاری کے خاندان کو متاثرہ خاندان بتایا ہے۔ اس کے پیچھے سنجے نشاد نے بھی دلیل دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مختار انصاری کے خاندان کے بارے میں جس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں وہ درست نہیں۔ خاندان کی عورتوں اور بچوں کا کوئی قصور نہیں۔ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ ایسے میں انہیں مظلوم کہنا بالکل درست ہے۔
’’خراج عقیدت پیش کرنا غلط نہیں ہے‘‘ سنجے نشاد نے بھی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے لیے مختار انصاری کے گھر جاکر خراج عقیدت پیش کرنے کو بالکل درست قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی کی موت کے بعد ان کو خراج عقیدت پیش کرنا اور ان کے اہل خانہ سے ان کے غم میں شریک ہونا ہندوستانی روایت کا حصہ ہے اور اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ اسے سیاسی نقطہ نظر سے ہر گز نہیں دیکھنا چاہیے۔ سنجے نشاد نے واضح طور پر کہا کہ مختار انصاری کی موت کے باوجود پوروانچل میں ووٹوں کا پولرائزیشن نہیں ہوگا۔
پوروانچل کے لوگ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیں گے اور صرف مسائل کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔ انہوں نے اوم پرکاش راج بھر کے مختار انصاری کو غریبوں کا مسیحا کہنے والے بیان کی نہ تو حمایت کی اور نہ ہی مخالفت کی۔









