سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اتوار کو مختار انصاری کے انتقال پر تعزیت کے لیے غازی پور رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے۔ اس دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ انہوں نے مختار انصاری کے گھر پہنچ کر تعزیت اور خراج عقیدت پیش کیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اترپردیش عدالتی تحویل میں قتل کے معاملہ میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ مختار انصاری نے جو خدشات ظاہر کیے تھے وہ درست ثابت ہوئے۔ میرا مطالبہ ہے کہ تحقیقات ہونی چاہیے اور سچ سامنے آنا چاہیے۔ اعظم گڑھ میں کیشو پرساد موریہ کے بیان پر اکھلیش یادو نے جوابی حملہ کیا۔ کہا کیشو پرساد سے بڑا غنڈہ کون ہے؟ اکھلیش یادو نے کہا کہ جیل میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق سوالوں کے جواب حکومت کے پاس نہیں ہیں۔ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ اس حکومت میں لوگوں کو سب سے زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے-جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے۔ یہ شخص خود اتنے سالوں کی سزا بھگت رہا تھا اور خود کہتا تھا کہ اس کی جان خطرے میں ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ جیل میں زہر دیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی حکومت ان لوگوں کو سیکورٹی فراہم نہیں کر سکی جو کہتے تھے کہ جیل میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ جو حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی وہ عوام کی حکومت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھی دباؤ ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو انصاف ملے۔ حکومت کے تئیں لوگوں کے جذبات اچھے ہونے چاہئیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ اس حکومت نے سچائی اور اعتماد کو کمزور کرنے کا کام کیا۔ سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں تحقیقات ہوں گی تو انصاف ملے گا۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ حکومت اس معاملے میں سچ سامنے لائے گی۔ حالانکہ لوگ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔
دریں اثنا اکھلیش یادو کی آمد کو لے کر افضل انصاری کی رہائش گاہ پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ڈی ایم اور ایس پی کے ساتھ ساتھ پولیس ٹیم اور نیم فوجی دستے بھی تعینات تھے۔ اکھلیش یادو کی آمد کی اطلاع ملتے ہی افضل کی رہائش گاہ کے باہر کافی بھیڑ جمع ہو گئی۔ بھیڑ کے ساتھ میڈیا والوں اور دیگر لوگوں کو بھی اندر جانے سے روک دیا گیا ۔









