دہلی: کیرانہ لوک سبھا سیٹ: جہاں بی جے پی کے امیدوار پردیپ چودھری دوسری بار الیکشن لڑ رہے ہیں، انڈیا الائنس نے ٹھنڈے مزاج کی ہر دلعزیز اقراء حسن کو میدان میں اتارا ہے۔ کیرانہ اسمبلی انتخابات میں ہندو نقل مکانی کے معاملے کو لے کر سرخیوں میں رہے تھے۔ اس بار سماج وادی پارٹی نے لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی اقراء حسن کو میدان میں اتارا ہے۔ این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اقرا حسن نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کی جانب سے ہندو نقل مکانی کا مسئلہ اٹھا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔ تاہم، بی جے پی دوسری جگہوں پر اس مسئلہ کا فائدہ اٹھاتی ہے۔
اقرا حسن نے بتایا کہ وہ سیاست میں کیسے آئیں؟
کیرانہ سے چار بار رکن اسمبلی رہنے والے منور حسن کی بیٹی اقراء حسن نے لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کے والد اتر پردیش کی سیاست کا ایک بڑا چہرہ تھے۔ این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اقرا نے کہا کہ میں گزشتہ 2 سال سے سیاست میں سرگرم ہوں۔ اب مجھے اس سے بہت امیدیں ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے رہنما اور اقرا حسن کے بھائی ناہید حسن کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف جو بھی کیس زیر التوا ہیں، وہ عوام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے جھوٹے پروپیگنڈے پر عوام کی طرف سے مسلسل ردعمل سامنے آرہا ہے۔ ان پر جس طرح سے الزامات لگائے گئے ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ عوام نے ردعمل دیا ہے۔ دونوں جگہوں پر بی جے پی حکومت میں ہے، اگر ان کے الزامات میں کوئی سچائی ہوتی تو عدالت اب تک کارروائی کر چکی ہوتی۔
اقرا حسن نے بتایا کہ بہت سے لوگ کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی طرف سے امیدواری کے لیے درخواست دے رہے تھے۔ لیکن میں خوش قسمت تھی کہ پارٹی نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ میں 2 سال سے مسلسل فیلڈ میں کام کر رہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس کا فائدہ ہوا ہے
کیرانہ میں انتخابی مسائل کیا ہیں؟
اقرا حسن نے کہا کہ ہمارے پاس پچھلے 5 سال کا ریکارڈ ہے کہ ڈبل انجن والی حکومت کے باوجود کیرانہ میں کوئی کام نہیں ہوا۔ حکومت کی طرف سے ایسا کوئی منصوبہ نہیں آیا۔ ہمارے یہاں میڈیکل کالج نہیں، کالجز کی کمی ہے۔ یہ سب حکومت کے ذریعے ہو سکتا تھا۔ پچھلے پانچ سال سے جو ممبران پارلیمنٹ تھے وہ بی جے پی کے تھے، اقتدار ان کے پاس تھا، پھر بھی وہ کام نہیں کروا سکے۔
آر ایل ڈی سے اتحاد ٹوٹنے کا کیا اثر ہوگا؟
آر ایل ڈی سے اتحاد ٹوٹنے سے ہونے والے نقصان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شروع میں میں نے بھی سوچا تھا کہ آر ایل ڈی کے جانے سے نقصان ہو گا لیکن جس طرح سے میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ضلع میں لوگوں کا موڈ بی جے پی کے خلاف ہے، ایسے میں انہیں اس بے میل اتحاد کا کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں اس علاقے سے بی جے پی کا صفایا ہو گیا تھا۔ یہ گنے کا علاقہ ہے۔ یہاں کسانوں کی تحریک چل رہی تھی۔ اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ پارٹیاں تو مل گئیں لیکن دل نہیں ملے۔ نظریاتی لڑائی میں عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔









